’سعودی عرب میں تین خوراکیں اومیکرون سے لڑنے کے قابل ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گلف ہیلتھ کونسل میں پبلک ہیلتھ کے ڈائریکٹر احمد العمار نے کہا ہے کہ ابھرتے ہوئے کرونا وائرس ویکسین کی سعودی عرب کی فراہم کردہ تین خوراکیں وبا کی تبدیل ہوتی شکل ’اومیکرون‘ کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور نئی ویکسین تیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے وضاحت کی کہ اومیکرون تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے یہ وائرس زیادہ تر ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ وائرس فی الحال ایک سے زیادہ ممالک میں موجود ہے۔ امریکا میں بھی وائرس موجود ہے، ہم اس کے مزید پھیلاؤ کی توقع رکھتے ہیں۔

العمارنے انکشاف کیا کہ خلیج تعاون کونسل کے تمام ممالک نے اپنے اپنے معیارات مرتب کیے ہیں، جن کے ذریعے وہ احتیاطی تدابیر میں نرمی یا سختی کا تعین کرتے ہیں، جن کا اطلاق ان کے ہاں کرونا کیسز کے تناسب سے کیا جا سکتا ہے کیونکہ تمام ممالک ان کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔

العمار نے کہاکہ سعودی عرب کا کرونا سے نمٹنے کا اعلیٰ سطح پر علاج کیا جا رہا ہے۔مملکت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات فعال اور بے مثال ہیں جس کی بہ دولت سعودی عرب ان ملکوں میں شامل ہے جہاں کرونا وبا کو بر وقت کنٹرول کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مارنی ٹیکنالوجی ویکسینز کو تبدیلیوں کے مطابق ڈھالنے کے قابل بناتی ہے اور ضرورت پڑنے پر نئے تناؤ کے لیے ویکسین تیار کرنے کے کام کو آسان بناتی ہے۔

اومیکرون کی علامات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب تک اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ اومیکرون کی علامات کم شدید اور مضبوط ہیں۔ ڈیلٹا کی علامات کے مقابلے میں یہ کم ہیں لیکن ایک ہی وقت میں وہ سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں یا ان کا باعث بن سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں