اسرائیل: مقبوضہ گولان میں آبادکاروں کو دوگنا کرنے کے منصوبے کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اتوار کے روز اسرائیلی حکومت نے ایک ترقیاتی منصوبے کی منظوری دی جس کا مقصد شام کے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں میں یہودی آباد کاروں کی تعداد کو دوگنا کرنا ہے۔ اسرائیل نے سنہ 1981ء میں شام کے قبضے میں لیے گئے ان علاقوں کا الحاق کیا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے ہفتہ وار کابینہ اجلاس کے دوران اعلان کیا کہ مقبوضہ گولان میں میوو حماہ زرعی سوسائٹی میں ایک ارب شیکل (317 ملین ڈالر) لاگت سے سرمایہ کی جائے گی۔

حکومت کی طرف سے اپنایا گیا منصوبہ اگلے پانچ سال میں گولان ریجنل کونسل اور قصرین لوکل کونسل میں آباد کاروں کی تعداد کو دوگنا کرنے کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کو تیار کرنے کا متقاضی ہے۔

منصوبے کے تحت 576 ملین شیکل گولان میں "منصوبہ بندی اور رہائش" کے لیے فراہم کیے جائیں گے جس میں 5 سال کے اندر 7.3 ہزار نئے سیٹلمنٹ یونٹس کی تعمیر بھی شامل ہے۔

یہ اقدام گولان میں دو نئی بستیوں کی تعمیر کے لیے پیش رفت ہے، جن کے نام "آسیف" اور "مطر" کے نام سے پہلے سے موجود ہیں تاہم ان میں توسیع کی جائے گی۔

یہ منصوبہ علاقائی تعاون کے وزیر عیساوی فریگ کے اعلان کے باوجود اپنایا گیا، جن کا تعلق بائیں بازو کی "میریٹز" پارٹی سے ہے۔ انہوں نے اجلاس میں اس منصوبے کی مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے شرکت نہیں کی۔

گولان کی پہاڑیوں میں تقریباً 25,000 اسرائیلی آباد کار رہتے ہیں جس میں تقریباً 23,000 درز بھی آباد ہیں جو 1967 کی جنگ میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں میں رہ گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں