شام:گولان میں اسرائیل کے یہودی آبادکاروں کی تعداد دُگنا کرنے کے منصوبے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام نے اسرائیل کے مقبوضہ گولان کی چوٹیوں میں یہودی آبادکاروں کی تعدادآیندہ پانچ سال میں دُگنا کرنے کے منصوبے کی مذمت کی ہے اور اس کوایک ’’خطرناک‘‘ اور بے مثل اشتعال انگیزی قراردیا ہے۔

اسرائیلی کابینہ نے اتوارکو تزویراتی اہمیت کی حامل گولان کی چوٹیوں میں یہودی آبادکاروں کے لیے 7300 مزید مکانوں کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔اس سے اسرائیل کی اس سطح مرتفع پر گرفت مزید مضبوط ہوجائے گی۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق وزارت خارجہ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’شام قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے خطرناک اور بے مثال اشتعال انگیزی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے‘‘۔

اس نے مزید کہا ہے کہ شام اسرائیل سے اس علاقے کو واپس لینے کے لیے تمام دستیاب قانونی ذرائع کو بروئے کار لائے گا۔

واضح رہے کہ شام ایک طویل عرصے سے 1200 مربع کلومیٹر زمین کی پٹی کی واپسی کا مطالبہ کرتا چلاآرہا ہے۔گولان کے ایک طرف لبنان اور دوسری جانب اردن کی سرحد واقع ہے۔

صہیونی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے اتوار کو مقبوضہ گولان ہائٹس میں کابینہ کے خصوصی اجلاس کی صدارت کی تھی۔انھوں نے اس موقع پر کہا تھا کہ وہ اس علاقے میں رہنے والے یہودی آبادکاروں کی تعداد کودُگنا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اس اقدام کا مقصد پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصہ قبل شام سے قبضے میں لیے گئے علاقے پراسرائیل کی گرفت کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

نفتالی بینیٹ نے کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی سابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس علاقے پر اسرائیلی خودمختاری کوتسلیم کرنے اور بائیڈن انتظامیہ کے اس فیصلے کوواپس نہ لینے کے اعلان سے خطے میں نئی سرمایہ کاری کو ترغیب ملی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’’یہ ہمارا لمحہ ہے۔یہ گولان ہائٹس کا لمحہ ہے۔تصفیے کے دائرے کے لحاظ سے طویل اور جامد برسوں کے بعد آج ہمارا مقصد گولان کی چوٹیوں میں آبادکاری کو دُگناکرنا ہے‘‘۔

یادرہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی چھے روزہ جنگ میں گولان کی چوٹیوں کے بیشتر حصے پر قبضہ کرلیا تھا اور اس وقت اس کے تھوڑے سے حصے پر شام کا کنٹرول ہے۔اسرائیل نے 1981ء میں اس علاقے کوریاست میں غاصبانہ طور پرضم کرلیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔اسرائیل اور شام اس وقت تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔ان کے درمیان گولان کی چوٹیوں پرعارضی حد فاصل قائم ہے۔

اسرائیلی حکومتوں نے گذشتہ برسوں کے دوران میں اس علاقے میں ہزاروں یہودی آبادکاروں کو لابسایا ہے اور زراعت کے ساتھ ساتھ پھلتی پھولتی مقامی سیاحتی صنعت کوبھی فروغ دیا ہے۔گولان کی چوٹیوں میں اس وقت دسیوں ہزار اسرائیلی رہتے ہیں۔اسی علاقے میں شامی دروز کے متعدد دیہات بھی ہیں۔ان میں سے کچھ اسرائیلی کنٹرول کےمخالف ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں