آسمان سے باتیں کرتے شعلے ۔۔۔ اسرائیل نے شامی بندرگاہ کو نشانہ کیوں بنایا؟

بحیرہ روم سے داغے گئے میزائیلوں کا ہدف لاطاکیہ بندرگاہ کا کنٹینرز کمپاؤنڈ تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے شہر لاطاکیہ کی بندرگاہ پر گذشتہ روز ہونے والے اسرائیلی حملے کے مضمرات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔

دمشق حکومت کی وزارت دفاع کے اعلان میں بتایا گیا ہے منگل کو علی الصباح لاطاکیہ کی تجارتی بندرگاہ کے کنٹینرز کمپاؤنڈ پر اسرائیل نے گولا باری کی جس کے نتیجے میں آگ لگنے سے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ اس حملے پر اسرائیلی عہدیداروں کی جانب تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

اسرائیل حکام کی اس خاموشی کے باوجود تجزیوں کاروں نے بتایا کہ اسرائیل کے اس حملے کا نشانہ فوجی ٹرک تھے۔

ایرانی اہلیت روکنے کی کوشش

اسرائیلی قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی چیف چک فریلچ سمجھتے ہیں کہ اگر لاطاکیہ حملے حقیقت میں اسرائیل نے کیے ہیں تو اس بات کا غالب امکان ہے کہ ان کے ذریعے تل ابیب شام کے اندر ایران کی بڑھتی ہوئی عسکری اہلیت کو روکنا چاہتا ہے۔

امریکی اخبار ’’وال سٹریٹ جرنل‘‘ میں شائع ہونے والے مسٹر فریلچ کے بیان کے مطابق ’’حملوں کا ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے ذریعے ایرانیوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہو کہ اسرائیل کسی بھی وقت ایسے اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔‘‘

چک فریلچ نے مزید کہا کہ حملوں سے ایران اور پی فائیو کے درمیان جوہری معاہدے کے حوالے سے ویانا میں جاری مذاکرات کے حوالے سے ایران پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ حملوں سے ایران کو یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ ویانا مذاکرات ناکام ہونے پر فوجی کارروائی کا آپشن کھلا ہے۔ اسرائیل سمجھتا ہے کہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ایران کو فوجی کارروائی کا ڈراوا دینا ضروری ہے۔ اسی طرح شام کے اندر تہران کے بڑھتے ہوئے نفوذ کو روکا جا سکتا ہے۔

اخبار نے بحری ٹریفک پر نظر رکھنے والی کمپنی کے حوالے سے بتایا امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کے لیے سامان لے جانے والے بحری جہاز اکثر لاطاکیہ کی بندرگاہ پر رکتے ہیں۔

ایک مہینے میں دوسری مرتبہ

شام کی لاطاکیہ بندرگاہ پر گذشتہ روز [منگل] کو علی الصباح اسرائیلی میزائیلوں سے حملہ کیا گیا۔

شامی حکومت کے اعلان میں بتایا گیا ہے بحیرہ روم سے داغے جانے والے میزائیلوں کا نشانہ تجاری بندرگاہ کا کنٹینر زون تھا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا میزائل اس ٹرک پر بھی گرے جس میں ایران کے زیر استعمال فوجی سپیئر پارٹس رکھے گیے تھے۔

یہاں اس امر کی جانب اشارہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حالیہ چند برسوں کے دوران اسرائیل نے شام پر پابندی سے حملے کیے۔ کہا جاتا ہے کہ ان حملوں کے ذریعے تل ابیب ایران اور اس کے لیے اتحادی حزب اللہ کی جانب سے فوجی خطرات کو ناکام بنانا چاہتا ہے۔

منگل کو ہونے والے اسرائیل میزائل حملے سے تین ہفتے پہلے لاطاکیہ بندرگاہ کے خلاف ایک چھوٹی کارروائی بھی دیکھنے میں آئی، شام نے اس کا الزام بھی اسرائیل پر عائد کیا تھا۔

ایک مدت تک اسرائیل لاطاکیہ کی بندرگاہ کو نشانہ بنانے سے اس لیے ہچکچاتا رہا ہے کہ وہاں روس کی ایک ائر بیس موجود تھی۔ فوجی حلقے خیال ظاہر کرتے ہیں کہ تل ابیب، روس کو اطلاع دیے بغیر ایسے میزائل حملے نہیں کرتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں