سعودی عرب: ریئل اسٹیٹ جنرل اتھارٹی نے 7500 اختیار نامے جاری کیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں "ریئل اسٹیٹ جنرل اتھارٹی" کے قائم مقام گورنر طارق الحفظی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر اقتصادی ترقی کے نمایاں ترین اثاثوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی سوچ ہے جو ایک ہی وقت میں ثقافتی اور تجارتی آگاہی کے ساتھ مربوط ہے۔

گذشتہ روز ریاض میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے مستقبل کے حوالے سے منعقد کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انسانی اور اقتصادی نمو کے ساتھ ریئل اسٹیٹ کا تعلق معاصر زندگی میں ایک اہمیت کا حامل اور اس کے مستقبل کا ایک حصہ بن چکا ہے۔ کانفرنس کا انعقاد بلدیات، دیہات اور آبادی کے امور کے زیر ماجد الحقیل کی سرپرستی میں ہوا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے الحفظی نے بتایا کہ سعودی حکومت ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو بھرپور سپورٹ پیش کر رہی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ سیکٹر سماجی اور اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔ مملکت ویژن 2030ء کے اہداف میں یہ سیکٹر نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

الحفظی کے مطابق ریئل اسٹیٹ جنرل اتھارٹی نے پرمٹ اور اختیارات سے متعلق خدمات پیش کرنے کے لیے ویب سائٹ کے ذریعے ایک خدمت کا آغاز کیا ہے۔ اس خدمت سے کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ اس خدمت کے آغاز کے بعد سے اب تک 14 ہزار سے زیادہ افراد اس میں رجسٹر کر چکے ہیں۔

الحفظی نے بتایا کہ رواں سال دو ستمبر سے نئے ضوابط پر عمل شروع ہونے کے بعد سے اب تک 7500 کے قریب اختیار نامے جاری کیے گئے اور ریئل اسٹیٹ سے متعلق 14 الکٹرونک پلیٹ فارموں کو لائسنس دیا گیا۔

الحفظی کے مطابق ریئل اسٹیٹ کے تنازعات نمٹانے کے لیے سعودی ثالثی مرکز میں 800 کے قریب معاملات لائے گئے۔ علاوہ ازیں اتھارٹی نے ریئل اسٹیٹ کی 1400 تنصیبات کو پرمٹ جاری کیے۔ کرائے کے متعلق پروگرام کے ذریعے 28 لاکھ کرائے ناموں کی تصدیق کی گئی اور 1000 سے زیادہ مارکیٹ ایگریمنٹس کی منظوری دی گئی۔

الحفظی نے مزید بتایا کہ 2025ء کے دوران میں سعودی عرب کے مختلف صوبوں میں 3 لاکھ رہائشی یونٹ داخل کیے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں