عراق: نومنتخب پارلیمان کا پہلااجلاس 9 جنوری کو طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کے صدر برہم صالح نے نئی پارلیمان کا 9 جنوری کو پہلا اجلاس طلب کر لیا ہے۔انھوں نے اس ضمن میں جمعرات کو ایک فرمان جاری کیا ہے۔

نومنتخب ارکان ابتدائی اجلاس میں حلف برداری کے بعد پارلیمان کے ایک اسپیکر اور دو ڈپٹی اسپیکروں کا انتخاب کریں گے۔پھر ارکان ملک کے نئے صدر کا انتخاب کریں گے۔نومنتخب صدر اپنی حلف برداری کے بعد سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والے بلاک کا وزیراعظم نامزد کرکے اسے نئی کابینہ تشکیل دینے کی دعوت دیں گے۔

واضح رہے کہ عراقی آئین کے تحت ملک کا صدر کرد، وزیراعظم شیعہ اور پارلیمان کا اسپیکرسنی ہوتا ہے۔

عراق کی عدالتِ عظمیٰ نے اسی ہفتے ایران کے حمایت یافتہ شیعہ دھڑوں کی جانب سے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے خلاف دائراپیلوں کو مسترد کر دیا ہے اورانتخابی نتائج کی توثیق کی ہے۔

ایران کے حمایت یافتہ دھڑوں بہ شمول طاقتور مسلح گروہوں نے 10 اکتوبر کو منعقدہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام لگایا تھا۔دو ماہ سےزیادہ عرصے کی تاخیر کے بعد انتخابی نتائج کی توثیق سے عراقی قانون کے تحت دو ہفتوں کے اندر نئی پارلیمان کا افتتاحی اجلاس منعقد کرنے کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔

شعلہ بیان شیعہ عالم دین مقتدیٰ الصدر کو 30نومبرکو انتخابات کابڑا فاتح قرار دیا گیا تھا۔صدری تحریک نے عراق کی قومی اسمبلی کی کل 329 میں سے 73 نشستیں حاصل کی ہیں۔ایران نوازالحشد الشعبی کے سیاسی بازوالفتح (فتح) اتحاد نے صرف 17 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

اس کے رہ نماؤں نے انتخابی نتیجے کومسترد کردیا تھا-فتح اتحاد کی سبکدوش ہونے والی اسمبلی میں 48 نشستیں تھیں-الحشد لشعبی نے انتخابی نتائج کے خلاف مظاہروں کا اہتمام کیا تھااور انھیں کالعدم قرار دینے کی امید میں عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کی تھی۔اس نے انتخابی عمل میں ’’سنگین خلاف ورزیوں‘‘کا دعویٰ کیا تھا۔

الفتح نے الزام عایدکیا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام بہت سے رائے دہندگان کی انگلیوں کے پرنٹ کی شناخت کو تسلیم کرنے میں ناکام رہا تھا۔اس نے اس بات پر بھی احتجاج کیا کہ انتخابات کے لیے استعمال ہونے والی ایک نئی الیکٹرانک مشین مبیّنہ طورپرٹھیک طرح سے کام نہیں کررہی تھی۔

واضح رہے کہ 2003ء میں امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی فوج نے عراق پرچڑھائی کے بعد سابق مطلق العنان صدر صدام حسین کا تختہ الٹ دیا تھا اورایک نئے سیاسی بندوبست کا اہتمام ونفاذ کیا تھا۔اس کے بعد سے شیعہ گروپ ہی عراق کی سیاست میں چھائے ہوئے ہیں اوروہی حکومتوں کی تشکیل کے لیے جوڑ توڑ میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں