جوہری ایران

ایرانی بگل اسرائیلی میڈیا سے لیا گیا مواد نشر کرتے ہیں: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی میڈیا پروپیگنڈا مہم کے مقصد سے اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے پیچھے چلتا رہا ہے۔ یہ بات اسرائیلی اخبار Jerusalem Post میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہی گئی ہے۔

ایران ہمیشہ سے اسرائیلی ذرائع ابلاغ پر انحصار کرتا رہا ہے جس کے سیکورٹی اور پالیسی ساز اداروں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد حقائق جاننے کے لیے اسرائیلی میڈیا کے تجربات اور سرگرمیوں کی روشنی میں ایران کی کوریج سے مستفید ہونا ہے۔

سال 2021ء کے اختتام پر اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے ایک مضمون میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی میڈیا متعدد مواقع پر ثابت کر چکا ہے کہ وہ ہمیشہ سے اسرائیلی بصری اور تحریری ذرائع ابلاغ کا پیروکار رہا ہے۔

اسی وجہ سے ایرانی میڈیا کے دو بڑے ستونوں یعنی "فارس" اور "تسنیم" نیوز ایجنسیوں نے خطے میں متعین اہداف پورے کرنے کی خاطر اسرائیلی میڈیا سے لیے گئے اخباری مواد پر مبنی رپورٹیں نشر کیں۔

اس کی ایک مثال یہ کہ ایران نے حال ہی میں ایک فوجی مشق میں میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی آزمائش کی۔ اس کے بعد وہ اسرائیلی میڈیا کی کوریج کا منتظر رہا جس میں مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا۔ اس پر تہران نے اس آزمائش کے کامیاب ہونے کا اعلان کیا۔

اسی طرح فارس نیوز ایجنسی نے ایران کے طویل مار کرنے والے میزائلوں کے ذخیرے کا ذکر کیا۔ اس کے بعد اسرائیل کی کوریج کا انتظار کیا جس میں اسرائیلی فوجی ذمے داران نے ایران کی فوجی قوت کا اعتراف کیا۔ بعد ازاں فارس نیوز ایجنسی نے ایسے بیانات نقل کیے جن میں کہا گیا کہ یہ میزائلوں کا یہ ذخیرہ اسرائیل میں کسی بھی ہدف کو بآسانی نشانہ بنا سکتا ہے۔

اسرائیلی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اس طرح اپنی عسکری صلاحیت میں مبالغہ آرائی کی کاوش کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں