ایران کے مقتول میجرجنرل قاسم سلیمانی کی برسی کے موقع پربغداد میں امریکا مخالف ریلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ایران کی القدس فورس کے سربراہ میجرجنرل قاسم سلیمانی اورشیعہ ملیشیا کے رہ نما ابومہدی المہندس کی ہلاکت کی دوسری برسی کے موقع پر سیکڑوں افراد نے ریلی نکالی ہے۔انھوں نے امریکا مخالف شدید نعرے بازی کی ہے۔

مظاہرین نےعراق میں موجود باقی امریکی افواج کو نکالنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈزاٹھا رکھے تھے،جن پرلکھا تھا:’’ہم آپ کوآج کے بعد شہیدوں کی سرزمین پر نہیں رہنے دیں گے‘‘۔امریکی اور اسرائیلی جھنڈے زمین پر بکھرے پڑے تھے اور ریلی کے دوران میں لوگ انھیں پامال کررہے تھے۔

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے تحت القدس فورس کے سربراہ میجرجنرل قاسم سلیمانی تین جنوری 2020ء کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک امریکا کے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ان کے ساتھ الحشدالشعبی کے نائب سربراہ ابومہدی المہندس بھی مارے گئے تھے۔

ان کے ڈرون حملے میں اہدافی قتل نے ایران اور امریکا کو ایک ہمہ گیر تنازع میں دھکیل دیا تھا اورعراق میں اشتعال پیدا کردیا تھا جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ نے کئی روز بعد ایک غیرپابند قرارداد منظور کی جس میں عراق سے تمام غیر ملکی فوجیوں کو بے دخل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

امریکا نے بعد میں عراق میں اپنا جنگی مشن ختم کردیا تھا اور مستقبل قریب میں قریباً ڈھائی ہزار فوجی تعینات رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔وہ عراقی افواج کی تربیت کے لیے مشاورتی کردار جاری رکھیں گے۔عراقی ملیشیاؤں کے بعض رہ نما تمام امریکی فوجیوں کے انخلا پراصرار کررہے ہیں۔

ایران کے اتحادی کے سربراہ ہادی العامری نے کہا کہ ہم اپنے شہیدوں کے خون کا بدلہ لینے کے لیے امریکی فوج کے مکمل انخلا سے کم کچھ بھی قبول نہیں کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں