حرمین شریفین میں سماجی فاصلے کے اصول کے تحت نماز جمعہ کی ادائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب نے کرونا کیسز بالخصوص اومیکرون ویرینٹ کے تیزی سے پھیلاؤ کے پیش نظر خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ میں پھر سے سماجی فاصلہ لازمی قرار دیدیا ہے۔ آج نماز جمعہ کے دوران سماجی فاصلے کے اصول پر عمل کرتے ہوئے نمازیوں کی صف بندی کی گئی۔

کرونا کی نئی شکل اومیکروں کے عالمی پھیلاؤ اور ملک میں مہینوں بعد کرونا کیسز کی ریکارڈ تعداد سامنے آنے پر مسجد حرام اور مسجد نبوی ﷺ میں کرونا پابندیوںکو دوبارہ سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مقدس مساجد کی جنرل پریذیڈنسی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ میں سماجی فاصلے کی شرط دوبارہ لاگو کی جا رہی ہے جس کے بعد رضاکاروں نے صفوں کے درمیان فاصلے کے اسٹیکرز لگانا شروع کردیئے ہیں۔

مسجد بنوی میں سماجی فاصلہ
مسجد بنوی میں سماجی فاصلہ

خیال رہے کہ بدھ کے روز ملک میں کورونا کے 700 سے زائد نئے کورونا کیسز سامنے آئے تھے جو رواں برس اگست کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ قبل ازیں حکومت نے دونوں مقدس مساجد میں اندر اور باہر ماسک اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے پر زور دیا تھا۔

34 ملین افراد کے ملک سعودی عرب میں اب تک 5 لاکھ 54 ہزار سے زیادہ کورونا وائرس کے کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں جب کہ اس مہلک وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 8 ہزار 874 ہے جو عرب ممالک میں سب سے زیادہ اموات ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے 17 اکتوبر کو المسجد الحرام اور مسجد نبویﷺ میں سماجی فاصلے کی پابندی ختم کرتے ہوئے فاصلاتی دوری کے اسٹیکرز ہٹا دیئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں