جوہری ایران

سفارت کاری ڈگمگانے لگی ، واشنگٹن کا تہران کے ساتھ روش تبدیل کرنے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایسے بہت سے اشارے سامنے آ رہے ہیں جن سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ امریکا سفارت کاری کے ذریعے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ اسی بنیا پر واشنگٹن اور امریکی صدر جو بائیڈن کی ٹیم دیگر راستوں کو زیر بحث لانے پر مجبور ہو گئی ہے۔

امریکی جریدے "نیویارکر" میں شائع ہونے والی ایک طویل تجزیاتی رپورٹ میں امریکی ایلچی روبرٹ میلی کے علاوہ جوہری پھیلاؤ سے متعلق ماہرین اور اسرائیلی ذمے داران وغیرہ کے انٹرویو شامل ہیں۔ رپورٹ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ امریکی انتظامیہ تہران کے ساتھ نمٹنے کا طریقہ کار تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ بالخصوص جب کہ گذشتہ برس اپریل 2021 میں شروع ہونے والے ویانا مذاکرات کے آٹھ ادوار میں سفارت کاری اور جوہری بات چیت ،،، ایرانی حکام کو تیزی سے بڑھتی جوہری سرگرمیوں سے روکنے میں بارآور ثابت نہیں ہو سکی۔

امریکی ایلچی روبرٹ میلی کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کو وسیع ہوتا دیکھا جا رہا ہے اور تہران اپنی علاقائی سرگرمیوں میں زیادہ معاند بنتا جا رہا ہے۔ ایران اپنے حساب کتاب میں غلطی کر کے آگ سے کھیل رہے ہیں۔

گذشتہ سال جون 2021ء میں ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی کے انتخاب کے بعد ویانا مذاکرات کا سلسلہ موقوف ہو گیا تھا۔ بعد ازاں یہ سلسلہ 29 نومبر کو دوبارہ سے شروع ہوا۔

روبرٹ میلی کا کہنا ہے کہ نومبر کے اواخر تک ایران کا جوہری پروگرام اُن تمام قیود سے تجاوز کر چکا تھا جو 2015ء میں طے پائے گئے جوہری پروگرام کے تحت عائد کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم 2015ء میں طے پانے سمجھوتے سے زیادہ برا معاہدہ کرنے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔ موجودہ سمجھوتے کو بحال کرنے کی کوشش ایک مردہ لاش میں جان ڈالنے کی کوشش کے مترادف ہو گی"۔

دوسری جانب اسرائیلی سراغ رساں ایجنسی موساد میں سابق انٹلی جنس ڈائریکٹر سوہار بالتے کے مطابق ان کا ملک تہران کی جوہری پیش رفت کا ادراک رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "ہم ایسے مرحلے پر نہیں پہنچنا چاہتے جہاں خود سے یہ سوال کریں کہ ایران کو 90 فی صد کے تناسب سے یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت کیسے دے دی گئی ؟!"۔

یاد رہے کہ ویانا میں جوہری بات چیت کا آٹھواں دور نومبر 2021ء میں شروع ہوا تھا۔ اس سے قبل 7 ادوار میں بعض مسائل پر مفاہمت سامنے آئی تھی تاہم کئی پیچیدہ امور معلق رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں