اسرائیل کی سرحد کے قریب جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کے قافلے پرحملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کے جنوبی علاقے میں نامعلوم افراد نے اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کے ایک گروپ پرحملہ کیا ہے،ان کی گاڑیوں میں توڑپھوڑکی ہے اور ان سے سرکاری اشیاء چوری کرلی ہیں۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدی علاقے میں تعینات اقوام متحدہ کی امن فوج (یونیفل) کے ایک پریس عہدہ دار کنڈیس اردیل نے اس واقعہ کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ یہ حملہ منگل کی شب کیا گیا تھا۔

یونیفل نے لبنانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان جرائم کے تمام ذمے داروں کے خلاف فوری اورمکمل تحقیقات کریں اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں۔

ادھر مقامی ذرائع ابلاغ نے خبردی ہے کہ جنوبی قصبے بنت جبیل کے مکینوں نے آئرش امن فوجیوں کے ساتھ جھگڑا کیا تھا۔ان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ رہائشی گھروں کی تصاویر لے رہے تھے۔اطلاعات میں مزید کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی فوج کے ساتھ لبنانی فوجی نہیں تھے۔

بنت جبیل لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا گڑھ ہے اور2006ء کی جنگ میں اس کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا تھا۔تاہم اردیل کا کہنا تھا کہ مشتہر کی جانے والی غلط معلومات کے برعکس امن فوجی تصاویرنہیں لے رہے تھے اور وہ کسی نجی املاک پر بھی نہیں تھے۔انھوں نے مزید کہا کہ امن فوجی معمول کے گشت کے لیے لبنانی فوج کے ارکان سے ملنے جارہے تھے۔

اردیل نے کہا کہ یونیفل امن کے مقصد کی تکمیل کرنے والے مردوں اور خواتین پر حملوں کی مذمت کرتی ہے اور یہ حملے لبنانی اور بین الاقوامی دونوں قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

یونیفل کودراصل 1978ء میں اسرائیل کے لبنان پرحملے کے بعد اسرائیلی فوجیوں کے انخلا کی نگرانی کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ 2006 میں اسرائیل اورحزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان ایک ماہ کی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنگ بندی کے تحت لبنان میں اس مشن کو وسعت دی گئی تھی مگراس کے بعد سے جنوبی لبنان میں ان عالمی امن فوجیوں کے ساتھ اس طرح کی جھڑپیں کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہیں۔

گذشتہ سال کے آخر میں جنوبی لبنان ہی میں امن فوجیوں کے ساتھ اسی طرح کا ایک واقعہ پیش آیا تھا۔تاہم لبنان کی وزارت خارجہ نے اس کی مذمت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں