امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد کوشام اورعراق میں دُہرے حملوں کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا کی قیادت میں دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف لڑنے والے بین الاقوامی اتحاد کواس وقت پڑوسی ملکوں شام اورعراق میں دُہرے حملوں کا سامنا ہے۔بدھ کے روز شام میں اس اتحاد کے زیراستعمال ایک فوجی اڈے کو راکٹ حملے اورعراق میں ایک اور فوجی اڈے کو ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کی گولہ باری میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

اتحاد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اتحادی فوجیوں کو علی الصباح شام کے شمال مشرق میں واقع شامی ڈیموکریٹک فورسز(ایس ڈی ایف) کے اڈے گرین ویلج میں بالواسطہ آٹھ گولوں سے نشانہ بنایا گیا۔اس اڈے پراتحادی فوجی ایس ڈی ایف کی فوجی معاونت اور مشاورتی کردار کے لیے تعینات ہیں۔

اس کے جواب میں اتحاد نے شام کے صوبہ دیرالزور میں واقع قصبہ المیادین کے نواحی علاقے میں حملے کی جگہ کی طرف توپ خانے سے چھے گولے فائر کیے ہیں۔

دوسراحملہ عراق میں کیا گیا ہے جہاں عین الاسد ایئربیس کے قریب پانچ راکٹ گرے ہیں۔عراق کے مغربی صوبہ الانبار میں واقع اس فوجی اڈے پرامریکی اور بین الاقوامی فوجی موجود ہیں۔اس حملے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔

داعش مخالف اتحاد کے ترجمان میجرجنرل جان ڈبلیو برینن جونیئر نے کہا:’’اتحادعراق اورشام میں ہماری فورسز کے خلاف ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا گروپوں کی جانب سے لاحق خطرات پرنظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ حملے ہمارے اتحاد کے مشترکہ مشن میں ایک خطرناک رکاوٹ ہیں۔اس مشن کا مقصد اتحادی افواج کو داعش کی پائیدار شکست کو برقرار رکھنے کے لیے مشورے دینا، مدد کرنا اورلڑنے کے قابل بنانا ہے‘‘۔

عراق اور شام میں داعش مخالف اتحاد کے خلاف حالیہ دنوں میں متعدد ڈرون اور راکٹ حملے کیے گئے ہیں۔منگل کے روزاتحاد نے عین الاسد ائیربیس کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے دو مسلح ڈرون مار گرائے تھے۔

عراق میں داعش مخالف اتحاد پر گذشتہ 24 گھنٹے میں یہ دوسرا ڈرون حملہ تھا۔ پیر کے روزاتحاد نے بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے میں فوجیوں کے زیراستعمال احاطے کو نشانہ بنانے کے لیے چھوڑے گئے دو اور مسلح ڈرونز کومار گرایا تھا۔

یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ایران اور مشرقِ اوسط میں اس کے اتحادیوں نے بغداد ہوائی اڈے پر امریکی ڈرون حملے میں سپاہ پاسداران انقلاب کی بیرون ملک کارروائیوں کی ذمہ دار القدس فورس کے کمانڈرجنرل قاسم سلیمانی اور ان کے عراقی معاون ابومہدی المہندس کے قتل کی دوسری برسی کے موقع پرپیرکو جذباتی یادگاری تقریبات منعقد کی تھیں۔

قاسم سلیمانی اورابومہدی 3جنوری 2020ء کو بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک امریکا کے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ایران ان کے قتل کا انتقام لینے کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے۔اس کے حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا گروپوں ہی پرعراق اور شام میں امریکا اوراس کی اتحادی فورسز پرڈرون اور راکٹ حملوں کے الزامات عاید کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا کی قیادت میں اتحادی فوجیوں نے گذشتہ ماہ کے اوائل میں عراق میں اپنا جنگی مشن ختم کردیا تھا اور اب وہ عراقی سکیورٹی فورسز کے لیے تربیتی اور مشاورتی کردار ادا کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں