ایرانی پاسداران انقلاب کا ایک نیٹ ورک حوثیوں کو تیل اسمگل کر رہا ہے: واشنگٹن پوسٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" نے اپنی ایک رپورٹ میں ایران سے یمن (حوثیوں)، چین اور صومالیہ کو ایندھن کی اسمگلنگ کے میدان میں ایرانی پاسداران انقلاب کی غیر قانونی اقتصادی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی ہے۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاسداران انقلاب کے علاوہ ایرانی حکومت کے ایجنٹ اور خطے کے بعض ممالک میں رجسٹرڈ متعدد نجی شپنگ کمپنیاں اس آپریشن میں تعاون کر رہی ہیں۔

فارسی زبان کے امریکی "ریڈیو فردا" کی ویب سائٹ پر شائع رپورٹ میں کہا ہے کہ خطے میں توانائی اور سلامتی کے شعبوں میں مہارت رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے ایران سے ایندھن کی اسمگلنگ بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے۔ اگر اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی اسمگلنگ کسی اور فرد یا گروپ کی طرف سے ہو تو ایسا اجازت کے بغیر ممکن نہیں۔

اس سے قبل امریکی وزارت خزانہ نے پاسداران انقلاب پر الزام لگایا تھا کہ تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ سے پیسہ کمانے کے لیے ایرانی سمندری سرحدوں اور بندرگاہوں میں تیل کی تنصیبات کو سختی سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

لندن کے کنگز کالج کے اسکول آف سیکیورٹی اسٹڈیز کے سینیر لیکچرر آندریاس کریگ نے امریکی اخبار کو بتایا کہ ایرانی پاسداران انقلاب ایک انتہائی کرپٹ ادارہ ہے۔ ایران سے اسمگلنگ کا سالانہ حجم لاکھوں بیرل تک پہنچ جاتا ہے۔

اپنی رپورٹ میں "واشنگٹن پوسٹ" نے کئی ایسے ملاحوں کا انٹرویو کیا جو اس سے قبل ایران سے ایندھن کی اسمگلنگ میں ملوث بعض کمپنیوں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

اس "غیر قانونی" تجارت کا مشاہدہ کرنے والے ملاحوں کے مطابق خلیج فارس میں ایرانی ایندھن لے جانے والے بحری جہاز خطے کے ممالک کے علاقائی پانیوں سے باہر جاتی ہیں۔ اس کے فوراً بعد چھوٹی کشتیاں رات کے وقت خفیہ طور پر ان ٹینکروں کو ایندھن اسمگل کرتی ہیں۔ دن کو کوسٹ گارڈ کو اسمگلنگ کی کارروائیوں کا پتہ نہیں چلتا۔

عینی شاہدین نے "واشنگٹن پوسٹ" کو انکشاف کیا ہے کہ سمندر میں راتوں رات کھیپ کے علاوہ ایرانی ایندھن کے جعلی ذرائع بھی اجازت نامے میں شامل کیے جاتے ہیں تاکہ تیل علاقائی ممالک سے بین الاقوامی منڈیوں میں آتا دکھائی دے۔

ایک 28 سالہ ہندوستانی ملاح جس نے 2016 اور 2020 کے درمیان ایرانی ایندھن کی اسمگلنگ میں ملوث دو کمپنیوں کے لیے کام کیا، نے اخبار کو بتایا کہ ایرانی ٹینکر عام طور پر بین الاقوامی پانیوں (خلیج میں) میں چلتے ہیں اور ان کی ٹریکنگ ڈیوائسز غیر فعال ہیں۔

ملاحوں کے مطابق ایران سے ایندھن کی اسمگلنگ کی رفتارمیں اس وقت تیزی آئی جب امریکا نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی اور 2018 میں تہران کے جوہری پروگرام کے خلاف پابندیاں دوبارہ شروع کر دیں۔

تیل کے ایک ماہرنے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ایرانی تیل کی مصنوعات جو پابندیوں میں شامل ہیں ہفتہ وار بھیجی جاتی ہیں۔ چونکہ مارکیٹ میں مانگ ہے، اس لیے ایران پابندیوں کو روکنے کے طریقے تلاش کر رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سمگل شدہ سامان کی نقل و حمل کے لیے سمندری مسافروں کو 10,000 سے 50,000 تک کی رشوت دی گئی۔

ایک 30 سالہ بھارتی ملاح نے بھی امریکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ "ملاحوں" کو پاسداران انقلاب نے تشدد کا نشانہ بنایا اور مارا پیٹا۔ وہ کبھی انسانوں کی طرح کام نہیں کرتے۔ دوسروں کو مارنے میں پہل کرتے ہیں۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاسداران انقلاب نے متعدد غیر ملکی بحری جہازوں کو ایرانی علاقائی پانیوں میں "ایندھن کی سمگلنگ" کے الزام میں متعدد بار حراست میں لیا ہے۔

"اسمگلر برادران"

"اسمگلر برادران " ایک ایسی اصطلاح ہے جو سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے پاسداران انقلاب کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی تھی جب وہ اس فوجی ادارے سے متفق نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاسداران انقلاب حکومت کی کسٹم انتظامیہ کے کنٹرول سے باہر کی بندرگاہوں کے مالک ہیں اور غیر قانونی طور پر بڑے پیمانے پرسامان کی نقل و حمل کرتے ہیں۔

رپورٹس بتاتی ہیں کہ ایرانی ساحلوں پر 80 سے زائد غیر قانونی بندرگاہیں ہیں خاص طور پر خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے ہرمزگان صوبے میں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں