حزب اللہ کے کیمپوں میں سعودیوں کی موجودگی کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

ہم مشرقی سعودی عرب کے شہر قطیف کے شہر شاہ عبدالعزیز شاہراہ پر مشہور مقبول مقام "قہوۃ الغراب" میں بیٹھے تھے۔ یہ نماز فجر کے بعد کا وقت تھا اور ہم چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ اسی دوران "ابو علی" نے ہمیں کسی تھکاوٹ یا بوریت کے احساس کے بغیر کافی کے کپ اور دودھ کے گلاس پیش کیے۔

اس دن تین دوست ہمارے ساتھ تھے جو شامی عرب جمہوریہ کے سفر کی تیاری کر رہے تھے۔ بہ ظاہر وہ سیاحت اور سیدہ زینب بنت علی بن ابی طالب کے روضہ کی زیارت کا بتا رہے تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ حزب اللہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے تربیتی کیمپوں میں شامل ہونے کا ارادہ کر رہے تھے۔

پوشیدہ تربیت

اگرچہ اس واقعے کو 26 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن یہ آج بھی میرے ذہن میں موجود ہے، حالانکہ مجھے اس وقت اس کی تفصیلات کا علم نہیں تھا، جو بعد میں سامنے آئی۔ مشرقی سعودی عرب میں 1996 میں خبر ٹاورز کے بم دھماکے کے بعد جہاں نوجوانوں کے گروپ مردوں کو گرفتار کیا گیا ان میں سے بہت سے سعودیوں نے لبنان کے مختلف علاقوں میں کیمپوں میں تربیت حاصل کی تھی۔ ان میں سے کچھ نے چند دنوں کے لیے جب کہ دیگر جنہیں "لیڈر" کہا جاتا ہے نے مختلف کیمپوں میں کئی مراحل کی سخت تربیت حاصل کی۔

"حزب اللہ" کے کیمپوں میں کئی شخصیات کےتعاون سے سعودی نوجوانوں کا استقبال کیا جا رہا تھا۔ ان میں ایک جنگجو احمد المغسل تھے جنہیں سعودی حکام نے اگست 2015 میں گرفتار کیا۔ المغسل کو "خبر ٹاور‘‘ بم دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ" کہا جاتا ہے۔

مقہیٰ الغراب کیفے میں بیٹھےلوگوں میں سے ایک کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ ایک نوجوان خوش الحانی سے قرآن کی تلاوت کرتا اور دعائیں کرتا۔ وہ روایتی طور پر مذہبی تھا۔ کمانڈر بننے سے قبل "امام کی صف" کے سلسلے میں شامل ہونے کے لیے یقینی طور پر "حزب اللہ" کے کیمپوں میں نہیں گیا تھا۔ اس کے ذہن میں مملکت کے اندر دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کا ارادہ تھا۔ "نیک مومنین" خاص طور پر اس جیسی جذباتی شخصیت رکھنے والے اس بات پر قائل ہیں کہ ان کا "جہاد" کا سفر بہت بڑا ہے۔

ہمارے دوست جو کہ اکثر جمعہ کی راتوں اور تقدیر میں خدا کی طرف سے مصیبت زدہ لوگوں میں سے آنسو بہاتے ہیں نے چند دنوں تک ہتھیاروں کی تربیت حاصل کی۔ اس کے بعد وہ ، اس کا ساتھی اور خبر ٹاور پر حملے کا ماسٹر مائنڈ سعودی عرب آگئے جہاں ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور کئی سال کی قید کی سزائیں سنائی گئیں۔

امداد اور تیاری

خبر ٹاور کے بم دھماکے سے تقریباً 3 ماہ قبل سعودی حکام نے مسٹر فاضل العلوی کو الحدیثہ بارڈر کراسنگ سے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ اپنی کار میں چھپایا گیا 30 کلو گرام سے زائد دھماکہ خیز مواد اسمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھا۔ اسے یہ دھماکہ خیز مواد المغسل نے تھمایا تھا جسے مملکت کے اندر لانا تھا۔

العلوی کی گرفتاری کے بعد اس کی نشاندہی پر سعودی حکام نے علی المرھون کو گرفتار کیا۔ وہ دارالحکومت ریاض کی "کنگ سعود یونیورسٹی" کے "کالج آف آرٹس" میں زیر تعلیم تھا۔ اس کے بعد صالح رمضان اور مصطفی المعلم جب کہ چند ماہ بعد اس کے دو بھائیوں کو گرفتار کر لیا۔ یہ دونوں "شویخات" خاندان کی ملکیت میں ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں ملازم تھے۔

جعفر الشويخات
جعفر الشويخات

یہ وہی خاندان تھا جس کا ایک رکن جعفر الشویخات "الحایر" جیل میں ریاض میں مشرقی سعودی عرب کے جبیل میں "صدف" پیٹرو کیمیکل کمپنی کی ایک سہولت پر 1988 میں ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے الزام میں قید تھا۔ اسے بعد میں 1994 میں رہا کر دیا گیا، لیکن 1996 میں اسے خبر ٹاورز کے میں بم دھماکوں کے ملزمان میں ایک بار پھر سامنے آیا۔ سعودی عرب کی درخواست پر اسے شامی پولیس نے گرفتار کیا۔ اس نے دوران حراست صابن نگل کرخود کشی کی مگر کہا جاتا ہے کہ اسے شامی انٹیلی جنس اور پاسداران انقلاب نے ایک منصوبے کے تحت ٹھکانے لگایا گیا۔ اسے "سیدہ زینب" کے محلے میں سپرد خاک کیا گیا اور ان کے ساتھ کئی راز دفن ہو گئے!

رابطہ کار

احمد المغسل جسے "ابوعمران" کے نام سے جانا جاتا ہے فوجی تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کی اکثریت ، "پاسداران انقلاب" اور لبنانی "حزب اللہ" کے ساتھ رابطے کا ذریعہ تھے۔ اس کی وجہ وہ حزب اللہ حجاز کے فوجی ونگ میں سب سے نمایاں شخصیت ہیں۔

ابو عمران ایک بنیاد پرست عسکری شخصیت تھے لیکن ان کے پاس مزاح کا جذبہ بھی تھا جس سے وہ نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے تھے۔ اپنی مستقل موجودگی اور شام کے قصبے "السیدہ زینب" میں زائرین کو فراہم کردہ خدمات کے ذریعے وہ بہت سے "نوعمروں" کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور ان پر اثر انداز ہونے اور انہیں اپنے برانچنگ نیٹ ورکس میں شامل کرنے میں کامیاب رہا۔

بھرتی کرنے والوں کو متحرک کریں

سنہ 1994 میں شیخ حسن الصفار کی قیادت میں "اصلاحی تحریک" نے مملکت میں واپس آنا شروع کیا اور اپنی غیر ملکی سرگرمیاں ختم کیں۔ اس کے بعد بائیں بازو کی متعدد تنظیمیں اور اسلامی تنظیمیں وجود میں آئیں۔ تاہم احمد المغسل نے اس منصوبے میں حصہ لینے سے انکار کر دیا اور وہ اور اس کے نظریات کے حامیوں کا ایک گروپ بیرون ملک ہی رہا، تاکہ وہ اپنی صفوں کو ترتیب دینے اور حامیوں کو راغب کرنے کے لیے دوبارہ تیاری کر سکے۔

الخبر ٹاور پر حملے کا منظر۔
الخبر ٹاور پر حملے کا منظر۔

لبنان میں ابوعمران کے پیچیدہ تعلقات کی وجہ سے وہ سعودی نوجوانوں کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرنےکے لیے اپنے کیمپوں کے دروازے کھولنے میں کامیاب ہوئے اور یہ معاملہ پارٹی کی سیاسی یا عسکری قیادت کے علم میں لائے بغیر یقیناً خفیہ طور پر نہیں کیا گیا۔ اس کے اعتقاد کا ایک حصہ جسے وہ "کمزوروں کی حمایت" کہتے ہیں اور "انقلابی تحریکوں" کو تربیت دینا تھا جس کے نتیجے میں خبر ٹاور میں بم حملے کا واقعہ پیش آیا۔

پراسرار لبنانی

خبر ٹاور بم دھماکے کی پراسرار اقساط میں سے ایک لبنانی شخصیت کو گرفتار نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کا نام گردش میں آیا۔ اس حقیقی شخص کا ذکر بعض رپورٹس میں تخلص سے کیا گیا ہے جیسا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس نے اپنی حقیقی شخصیت کو بھی ظاہر نہیں کیا۔ یہاں تک کہ اس کے سعودی ساتھی بھی اس کے اصل نام سے نا واقف تھے۔

لبنانی شخصیت جس کے لیے سعودی سیکیورٹی سروسز کے گواہوں کی شہادتوں کے ذریعے اسی طرح کی تصویر کھینچی گئی تھی وہ لبنان میں "حزب اللہ" سے منسلک تھا۔

پاسداران اور حزب اللہ کی دیکھ بھال

المغسل جو بیروت کے جنوبی مضافات میں السلام کالونی میں رہتا تھا۔ اس نے جعلی شناخت پر کئی بار سعودی عرب کا سفر کیا۔ وہ حج کے موسم میں مختلف ناموں یا شناخت کے ساتھ سعودی عرب آتا۔ کھبی وہ اپنی شناخت ایرانی باشندے کے طورپر کرتا۔

زیر حراست افراد سے تفتیش میں ابو عمران کے نام کا مرکزی طور پر ذکر اور سعودی حکام کی جانب سے اس کی گرفتاری کی کوششوں نے اسے ایک سے زیادہ جگہوں پر نظروں سے اوجھل کردیا۔

سعودی حکام المغسل اور اس کے خاندان کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ ان تمام لوگوں پر جن کا اس سے تعلق کا شبہ تھا جن میں کچھ سعودی باشندے بھی شامل تھے جنہیں احمد المغسل کی گرفتاری کے وقت گرفتار کیا گیا تھا۔

أحمد المغسل
أحمد المغسل

ایک بار مملکت نے ایرانی حکام کو المغسل کی رہائش گاہ کے بارے میں درست اور دستاویزی معلومات فراہم کیں جس میں شہر، محلے، گلی اور گھر کی وضاحت کی گئی تھ۔ تاہم تہران نے وہاں ان کی موجودگی سے انکار کیا۔ کیونکہ ایرانی پاسداران انقلاب اسے تحفظ فراہم کر رہے تھے۔ لبنان میں اسے حزب اللہ نے تحفظ دے رکھا تھا۔ گرفتاری سے قبل سنہ 2015 تک وہ لبنان میں رہا۔

تخریبی کردار

سعودی عرب کے خلاف لبنان کا "حزب اللہ" کا تباہ کن کردار یمن اور حوثی ملیشیا کے ارکان کی تربیت تک نہیں بلکہ اس سے کئی سال پرانا ہے۔ ایسا کردار جس نے سعودی داخلی سلامتی کو نقصان پہنچایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں