نوجوان یمنی خاتون نے مردوں کی اجارہ داری کے پیشے میں جگہ کیسے بنائی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لولہ القباطی اُن باہمّت یمنی خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے ملک میں پھیلی غربت کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے۔ انہوں نے ایک ایسے شعبے میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا جہاں مردوں کی اجارہ داری تھی۔ لولہ نے یمن کے شہر تعز میں خواتین کو گاڑی چلانے کی تربیت دینے کا کام شروع کیا۔

لولہ کا کہنا ہے کہ گاڑی چلانے کا پیشہ خواتین کے لیے کوئی آسان کام نہیں اور یہ پریشانیوں اور تنگیوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس میدان میں معاشرتی اقتدار اور مردوں کے غلبے سے ٹکرانا پڑتا ہے۔ لولہ ایک طرف تو اپنے گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے گاڑی چلاتی ہیں اور داتھ ہی ڈرائیونگ سیکھنے کی خواہش مند خواتین کے لیے تربیت کار کا کردار بھی ادا کرتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے لولہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے رضاکارانہ طور پر اپنی ذاتی گاڑی کے ذریعے طالبات کو جامعات اور عمر رسیدہ خواتین کو ہسپتالوں تک پہنچانے کا کام انجام دیا۔ کچھ عرصے میں لولہ اور ان کی گاڑی اس شہر کے لیے مانوس بن گئی جس کی آبادی 30 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔

لولہ خود کو تعز شہر میں پہلی خاتون قرار دیتی ہیں جس نے ایک ایسا مشکل پیشہ اپنایا جس پر مردوں کا راج تھا۔ لولہ کہتی ہیں کہ ضرورت نے انہیں یہ پیشہ اپنانے پر مجبور کر دیا تا کہ وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے روزی کما سکیں۔ برسوں سے جاری جنگ کے نتیجے میں مہنگائی عروج پر ہے اور لوگوں کے معاشی حالات ابتر ہو چکے ہیں۔

لولہ کے مطابق گاڑی چلانے کی تربیت دینا کسی طور بھی آسان مشن ثابت نہ ہوا۔ اس دوران میں لولہ کو دشواریاں اور مشقتیں جھیلنا پڑیں کیوں کہ یمنی معاشرہ اس خیال کو قبول نہیں کرتا۔ علاوہ ازیں نوجوانوں اور بس مالکان کی جانب سے بھی تنگ کیا جاتا رہا۔ لولہ نے بتایا کہ یمنی خواتین نے کئی ایسے پیشوں کو اپنایا جن میں اس سے قبل خواتین کے جانے کا تصور بھی نہیں تھا۔ ان میں مثل جنگی فوٹوگرافی، تجارتی مراکز پر سیلز گرل اور ٹیلی کمیونی کیشن کے شعبے میں انجینئر کا کام شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں