لوگ سر عام میرے چہرے پر تھوکتے رہے: ایرانی عالم دین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

حالیہ دنوں میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر متعدد ایرانی علما کے ساتھ لوگوں کے رویے پر مبنی مناظر پیش کیے گئے۔ ایران انٹرنیشنل چینل کی رپورٹ کے مطابق ایک سخت گیر ایرانی عالم دین محمد رضا زائری نے الزام لگایا کہ لوگوں نے سر عام ان کے ساتھ بدسلوک کی اور ان کے چہرے پر تھوکتے رہے۔

"انسٹاگرام" پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں علامہ زائرین نے لکھا کہ پچھلے دس دنوں میں ایک بار اس پر تھوک دیا گیا، دو تین بار اس کی شدید توہین کی گئی، اور ٹیکسی ڈرائیور نے بھی اسے نیچے اتار دیا اور کہا کہ میں ملاؤں کو سواری کی اجازت نہیں دیتا۔

زائری نے ایران کے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ وہ عوام میں بڑھتی ہوئی نفرت اور سخت تنقید کے اس پیمانے سے واقف ہیں جس کے بارے میں ہم نے پچھلے سالوں میں خبردار کیا ہے؟ نہیں"۔

کچھ دن پہلے حوزہ علمیہ کے ایک محقق عالم محمد تقی فاضل میبدی نے ہمدلی اخبار کو بتایا کہ بہت سے مولوی بازاروں میں جاتے ہیں یا دکانوں سے خریداری کرتے ہیں تو عام لباس پہنتے ہیں۔ مذہبی لباس نہیں پہن سکتے کیونکہ لوگ ان کی توہین کرتے ہیں اور انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ"بدقسمتی سے ہمارا ملک عام لوگوں کے لیے ایک ناپسندیدہ سمت میں چلا گیا ہے اور وہ معاشرے کی موجودہ صورتحال سے مطمئن نہیں ہیں۔ وہ یہ معاملات مذہبی رہ نماؤں کے کندھوں پر ڈال رہے ہیں"۔

حالیہ ہفتوں میں، سوشل میڈیا پر کچھ ملاؤں پر شہریوں کے حملوں کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔

حال ہی میں ایک شاہراہ پر چلتے ایک مذہبی عالم نے خاتون کو نقاب نہ کرنے پر تنقید کی تو لوگوں نے اس کی پگڑی اچھال دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں