سعودی عرب : شاہ عبدالعزیز اونٹ میلے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں ہفتے کے روز کنگ عبدالعزیز کیمل فیسٹول کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کی شرکت دیکھنے میں آئی۔ اس سے قبل اونٹوں کی مالکہ خواتین نے اپنی نوعیت کی پہلی دوڑ کے لیے اپنے ناموں کا اندراج کرایا۔

جنوبی صیاہد میں جاری چھٹے کنگ عبدالعزیز کیمل فیسٹول میں ہونے والے مذکورہ سنگل کیٹگری مقابلے میں 38 خواتین شریک تھیں۔ ابتدائی چھانٹی کے بعد 10 خواتین کے اونٹوں کو جیوری کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس کے بعد 5 اونٹنیوں نے اولین پوزیشن حاصل کی۔

فیسٹول میں خواتین کی شرکت کا مقصد عوامی لباس میں سعودی خواتین کی شرکت کے مفہوم پر مبنی پیغام پھیلانا ہے۔

سعودی دارالحکومت ریاض میں ہونے والا کنگ عبدالعزیز کیمل فیسٹول دنیا میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا میلہ شمار ہوتا ہے۔ یہ میلہ اونٹوں کی اقسام اور ان کی خوبصورتی کی نشانیوں کے لیے مختص ہوتا ہے۔ اس میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے علاوہ عرب ممالک اور امریکا، روس اور فرانس کے اونٹ مالکان بھی شریک ہیں۔

ریاض کے شمال مشرقی حصے میں یہ میلہ 32 مربع کلو میٹر کے رقبے پر سجتا ہے۔ اس کے لیے تقریبا 5 ہزار افراد کام کرتے ہیں۔ مختلف ممالک سے آئے ہوئے سیاحوں سمیت روزانہ ایک لاکھ افراد میلے کا رخ کرتے ہیں۔

اقتصادی پہلو سے بھی یہ میلہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اونٹوں کی خرید و فروخت اور دیگر مالی معاملات کا مجموعی حجم تین ارب ریال کے قریب ہے۔

میلے میں شاعری، تھیٹر، موسیقی اور تمام عمر کے افراد کے لیے تفریحی سرگرمیاں شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں