مکہ مکرمہ کی ایک تاریخی عمارت کے اسلامی طرز تعمیر کوکیسے محفوظ بنایا گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی حکومت مملکت میں موجود تاریخی مقامات اور پرانی طرز تعمیر کی عمارتوں کے تحفظ کے لیے غیرمعمولی توجہ دے رہی ہے۔ حال ہی میں حکومت کی مکہ معظمہ میں ایک تاریخی عمارت کو اس کی اصلی حالت میں محفوظ کیا ہے۔ یہ عمارت مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود اور کئی دوسرے فرمانرواؤں کی قیام گاہ بھی رہ چکا ہے۔

مکہ مکرمہ میں واقع السقاف محل ایک ثقافتی نشان اوراسلامی فن تعمیر کا ایک منفرد نمونہ ہے۔ محل کی عمارت اسلامی تعمیراتی خصوصیات کی حامل ہے اور اس میں بہت سے منفرد اسلامی تعمیراتی آرٹ اور آرائشی عناصر شامل ہیں۔

فوٹوگرافر محمد البستانی نے السقاف محل کی تعمیر کے اندر اور باہر سے خوبصورتی کو دستاویزی شکل دی اور اس نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ یہ محل 1346 ہجری میں تعمیر کیا گیا تھا جس کا محل وقوع 9,000 مربع میٹر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس محل کو قدیم آثار قدیمہ کی عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔یہ عمارت روایتی تعمیراتی ڈیزائن کے علاوہ اسلامی فن تعمیر کی منفرد خصوصیات کا حامل ہے۔ اس میں بہت سے منفرد اور نادر اسلامی آرٹ اور آرائشی عناصر اس کی تاریخی خوبصورتی کا پتا دیتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس محل میں شاہ عبدالعزیز ریاست کے سرکاری مہمانوں کا استقبال کرتے تھے۔یہ محل شاہ سعود اور شاہ فیصل کے دور میں ان کی سرکاری رہائش گاہ رہا، اور پھر یہ محل بعد میں رابطہ عالم اسلامی کا ہیڈ کوارٹر بنا۔اس کے بعد کچھ عرصہ اسے مکہ پولیس کا ہیڈ کوارٹربنایا گیا اور اس کا مغربی حصہ وزارت خزانہ کی شاخ میں تبدیل کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ محل ایک بڑی عمارت ہے جو کئی منزلوں پر مشتمل ہے۔ مرکزی داخلی دروازہ محل کے بیچ میں واقع ہے۔ شمال میں مرکزی دروازے کے علاوہ اور شمال مشرقی کونے میں چھوٹے دروازے ہیں۔ شاہ عبدالعزیز کے دور میں ایک اضافی ملحقہ ٹاور اس کی نگرانی کے لیےتیار کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں