.

عرب شاعروں نے ہر دور میں وادی نعمان کے ’گیت‘ کیوں گائے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وادی نعمان مکہ مکرمہ کی سب سے بڑی وادی ہے۔ ماضی میں شاعروں نے وادی کی خوبصورت فطرت اور درختوں سے ڈھکی اس وادی کو یہ خصوصیت حاصل رہی ہے کہ اس کا قدرتی حسن عرب شاعروں کے کلام کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ شعرا نے ہر دور میں اس وادی کے گیت گائے۔

اسلامی آثار قدیمہ کے اسسٹنٹ پروفیسر اور شاہ سعود یونیورسٹی کے کالج آف ٹورازم اینڈ آرکیالوجی فار ڈویلپمنٹ اینڈ کوالٹی کے وائس ڈین ڈاکٹر محمد السبیعی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا وادی نعمان مکہ مکرمہ کی سب سے بڑی وادی ہے۔ یہ مکہ اور طائف شہروں کے درمیان واقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وادی کا رخ سیدھا اور وہ جنوب میں عرفات سے گذرتی ہے۔ وادی کا پانی مغرب کی طرف بہتا ہے یہاں تک کہ یہ جدہ کے جنوب میں بحیرہ احمر میں جا گرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے شاعروں نے قبل ازاسلام اور ظہوراسلام کے بعد بہت سے شعرا نے اپنے کلام میں اس وادی کے فطری حسن، ٹھنڈی ہوا، الأراك ،السمر ،السدر ،السلم اور العشر سمیت دیگر انواع واقسام کے پودوں اور متنوع جنگلی حیوانات کی وجہ سے اس کے گیت گائے۔ ہردور کے شاعر اس وادی کے پر فضا مقام سے متاثر ہوئے اورانہوں نے اس کی تعریفوں میں قصیدے لکھے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اس وادی میں کئی اہم پہاڑ شامل ہیں جن میں سب سے اہم جبل کرا ہے جو کہ ایک مخصوص شکل کا ایک بڑا پہاڑ ہے جس کی چوٹی اونٹ کے کوہان سے مشابہ ہے۔ وادی کی ایک طرف ایک قبیلہ آباد ہے جسے وادی نعمان میں "ربع انف" کہا جاتا۔ یہ لوگ وادی میں داخل ہوتے اور آتے جاتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وادی نعمان کی فطرت میں بہت سے زیر زمین پانی شامل ہیں ساتھ ہی ساتھ اس میں سے گذرنے والی معاون ندیوں اور وادیوں کی کثرت، اور وادی نعمان کی سب سے نمایاں وادیوں اور اس کی معاون ندیوں میں شامل ہیں جو وادی کی زرخیزی کا کام کرتی ہیں۔ ان میں مشہور وادی رہجان، وادی ضیقہ ، وادی علق اور وادی الشری شامل ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ وادی نعمان میں بہتا ہوا پانی کا ایک اہم چشمہ عین زبیدہ ہے جہاں یہ چشمہ جبل کرا سے نکل کر عرفات سے مکہ المکرمہ تک پورے راستے سے گزرتا ہے۔ عین العابدیہ جبل نعمان سے جبل عرنہ تک پھیلا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں