.

’جب ہرطرف سے بچے کے علاج میں مایوس ہوا تو خادم الحرمین نے ہاتھ تھام لیا‘

کویت میں لاعلاج بچے کا سعودی عرب میں علاج جاری، والد پرامید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اپنے بیٹے کے مستقبل کے لیے تکلیف اور خوف کےملے جلے تاثرات میں ایک کویتی شہری نے اپنے بچے براک حسین کو علاج کی سہولت فراہم کرنے پر خادم الحرمین الشریفین کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ سعودی عرب میں جاری علاج سے ان کا بیٹا صحت یاب ہوجائے گا۔ پانچ سالہ بچے کے بارے میں پتا چلا ہے کہ وہ ایک نامعلوم بیماری کا شکار ہے۔ والد کی اپیل کے بعد خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے براک حسین کی علاج کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہدایت کی ہے۔

والد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ان کا بیٹا اس وقت نیشنل گارڈ کے شاہ عبدالعزیز میڈیکل سٹی میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں طبی زیر علاج ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سعودی عرب میں ان کی آمد کے بعد سے اسپتال میں میڈیکل ٹیم نے بچے کی بیماری کا پتہ لگانے کے لیے معائنے اور ایکسرے کروانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے لیکن ابھی تک اس کیس کے لیے کوئی خاص طبی طریقہ کار قائم نہیں کیا گیا ہے۔

براک کے والد نے خام الحرمین الشریفین شاہ سلمان کی سخاوت کی تعریف کی اور بچے کے علاج میں معاونت کی ہدایت پر ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا صحت یاب ہو کرپوری زندگی خادم الحرمین کی پیشانی چومتا رہے تب بھی ان کا شکریہ ادا نہیں کیا جا سکتا۔

بچے کے والد حسین نے بتایا کہ ان کا بچہ براک پیدا ہونے سے لے کر ڈیڑھ سال کی عمر تک سانس لینے میں دشواری کا شکار نہیں تھا لیکن اسے پٹھوں کی کمزوری کا مسئلہ تھا اور وہ ڈاکٹروں کی تشخیص پر جسمانی علاج اور ورزشیں کروا رہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ڈھائی سال کے بعد انہوں نے دریافت کیا کہ بچے میں پیدائشی نقص اور ریڑھ کی ہڈی میں خم ہے۔ ڈاکٹروں کو اپنے مشاہدات اور شکوک و شبہات سے آگاہ کیا اور یہ پہلے ہی معلوم ہو چکا تھا کہ خمیدہ پن ریڑھ کی ہڈی، اعصاب میں درد اور دیگر مسائل کا سبب ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب بچے کے علاج سے ہرطرف سے مایوس ہوگیا تو سوشل میڈیا کے ذریعے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے مدد کی اپیل کی۔ پھر میں کویت میں سعودی سفارت خانے گیا اور رپورٹس جمع کرائی۔

انھوں نے انکشاف کیا کہ انہیں اپنا پیغام پہنچانے کے لیے سفارت خانے کی جانب سے بھرپور تعاون حاصل ہوا اور دو ہفتوں کے اندر ان کے بیٹے کے سعودی عرب میں سفر اور علاج کی منظوری کا جواب موصول ہوگیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب مجھے اپنے بیٹے کو طبی طیارے کے ذریعے کویت سے سعودی عرب لے جانے کے بارے میں کال موصول ہوئی تو براک کی والدہ میرے ساتھ تھیں اور انہوں نے مجھ سے کہا: تمہاری آنکھیں اڑ گئی ہیں۔"

اس نے بتایا کہ اس نے سفر پر رضامندی کے ساتھ موصول ہونے والی کال کا جواب دیا تو ہمیں کہا گیا کہ ہم اللہ پر توکل کرکے سفر کا آغاز کرلیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ جو کچھ ہوا وہ ایک خواب کی طرح تھا لیکن خادم حرمین شریفین کے لیے یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے اور یہ راحت ایسے وقت میں آئی جب بچے کے تمام علاج ناکام ہو گئے۔ ڈاکٹروں نے اسے ہدایت کی کہ وہ اسے اپنے ساتھ گھر لے جائیں۔ اسے ایک ایک آکسیجن ٹیوب لگائی گئی۔

والد حسین نے انکشاف کیا کہ ان کے بچے بارک کا تعلق "البدون" کہلانے والے خاندانوں سے ہے اور اس معاملے نے ان کی پریشانی کو مزید بڑھا دیا حالانکہ ان کی دادی کویتی ہیں۔ ان کے دادا نے 40 سال تک کویت میں سیکیورٹی کے شعبے میں کام کیا اور وہ عراق جنگ کے دوران جنگجو تھے۔ انہوں نے اتحادی فوج کے توپ خانے میں کام کیا لیکن یہ سب اسے بیرون ملک علاج کے لیے راضی کرکے مطمئن نہ کرسکا کیونکہ کویتی وزارت صحت نے بیرون ملک علاج کے حوالے سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں