بیلاروس کی سرحدوں سے قریباً 4000 عراقیوں کی وطن واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق نے حالیہ ہفتوں میں یورپی یونین کے رکن ممالک پولینڈ، لِتھوینیا اور لٹویا کے ساتھ واقع بیلاروس کی سرحدوں پر پھنسے ہوئے اپنے قریباً 4000 شہریوں کووطن واپس منتقل کیا ہے۔

عراقی وزیرخارجہ فوادحسین نے اتوار کو لِتھووینیا کے ہم منصب کے ساتھ بغداد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 18 نومبر سے عراقی حکومت نے اپنے شہریوں کی وطن واپسی کے لیے بغداد اوربیلاروس کے درمیان 10 پروازوں کا اہتمام کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم پولینڈ، لتھوینیا اور لٹویا کے ساتھ واقع بیلاروس کی سرحدوں پر پھنسے ہوئے قریباً 4000 عراقیوں کو واپس لانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان احمد الصحاف نے بعد میں اے ایف پی کو بتایا کہ ’’3817 عراقی تارکینِ وطن کو بیلاروس سے اور 112 کو لتھووینیا سے واپس لایا گیا ہے‘‘۔انھیں پہلے پروازوں کے ذریعے عراق کے خود مختارعلاقے کردستان میں پہنچایا گیا ہے کیونکہ ان میں بیشتر کا تعلق کردستان ہی سے تھا۔ وہاں سے ملک کے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والےعراقیوں کو بغداد منتقل کیا گیا ہے۔

احمد الصحاف نے بتایا کہ کچھ عراقی اب بھی بیلاروس میں پھنسے ہوئے ہیں لیکن ’’خراب موسم اور پیچیدہ صورت حال میں ان کی تعداد کا تعیّن کرنا مشکل ہے‘‘۔

لتھووینیا کے وزیرخارجہ گیبریلیئس لینڈزبرگس نے بغداد میں عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی سے بھی ملاقات کی ہے،انھوں نے کہا کہ ’’وہ عراق کے ساتھ نئے خیالات پرمبنی تعاون چاہتے ہیں‘‘۔

گذشتہ موسم گرما سے ہزاروں تارکین وطن،بالخصوص مشرق اوسط اورعراق سے تعلق رکھنے والے بہت سے تارکین وطن بیلاروس اور یورپی یونین کی سرحد پرڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ وہ انتہائی نامساعد اور کٹھن حالات میں یورپی یونین کے رکن ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

مغرب نے بیلاروس پرالزام عاید کیا ہے کہ وہ صدر الیگزینڈرلوکاشینکو کی حکومت کے خلاف پابندیوں کا بدلہ لینے کے لیے تارکینِ وطن کو سرحد کی طرف دھکیل رہا ہے۔بیلاروس نے اس دعوے کی تردید کی ہے اور تارکین وطن کو قبول نہ کرنے پریورپی یونین کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں