شام کے ساتھ سرحد پراسمگلروں کی فائرنگ سے اردن کا فوجی افسر ہلاک،تین زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام سے اردن کےسرحدی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے منشیات کے اسمگلروں نے ایک فوجی چوکی پر فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں اردنی فوج کا ایک افسر ہلاک اورتین فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔

اردنی فوج نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اسمگلرمنشیات کی بھاری مقدارچھوڑ کر شام واپس فرارہو گئے ہیں۔فوج پوری طاقت کے ساتھ اس طرح کی کسی دراندازی کاسخت جواب دے گی۔ وہ ملکی سرحدوں کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور ہر اس شخص کوروک دے گی جو ہماری قومی سلامتی کی خلاف ورزی کی جرآت کرے گا۔

اردنی حکام نے گذشتہ ایک سال کے دوران میں شام سے منشیات کی اسمگلنگ کی کوششوں میں اضافے پر خبردار کیا ہے اورکہا ہے کہ شام سے ٹرکوں میں چھپا کرمنشیات کی بھاری مقداراسمگل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سامانِ تجارت لے جانے والے یہ ٹرک اردن کی مرکزی سرحدی گذرگاہ سے خطہ خلیج کی طرف جاتے ہیں۔

گذشتہ سال اردنی فوج نے سرحد پار بڑی مقدار میں منشیات اڑا کر لانے والا ایک ڈرون کو مار گرایا تھا۔اردنی حکام کا کہنا ہے کہ لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا اورشام کے جنوبی علاقے میں غلبہ رکھنے والی ملیشیاؤں کا ہاتھ مقبول ترین ممنوعہ منشیات کی اسمگلنگ میں کارفرما ہے۔یہ نشہ آوردوا کیپٹاگون کے نام سے جانی جاتی ہے اوراس کی خلیج عرب میں ایک پھلتی پھولتی مارکیٹ ہے۔حزب اللہ ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور انھیں من گھڑت قرار دیتی ہے۔

اقوام متحدہ کے منشیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک دہائی سے خانہ جنگی کا شکارشام پڑوسی ملکوں اردن، عراق کے علاوہ خلیج اور یورپ کے لیے منشیات کی پیداوار کا اہم مقام بن چکا ہے۔

شامی حکام نے حالیہ مہینوں میں خلیج کی منڈیوں کے لیے منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ملک میں منشیات کی پیداوارکے خلاف بڑے پیمانے پرکارروائی کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں