یمنی وزیر کا امدادی سامان کی حوثی لوٹ مار سے متعلق اعداد و شمار کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کی حکومت نے ایک بار پھر اپنا یہ مطالبہ دہرایا ہے کہ عالمی برادری حوثی ملیشیا پر دباؤ ڈالے تا کہ وہ انسانی امداد کی لوٹ مار سے متعلق خلاف ورزیوں کا سلسلہ روک دے۔ حوثی ملیشیا امدادی سامان ہتھیا کر اپنے ارکان میں تقسیم کر دیتی ہے اور مستحق یمنی عوام کو محروم رکھتی ہے۔ یہ موقف یمن کے وزیر برائے سماجی امور اور محنت ڈاکٹر محمد الزعوری کے حالیہ بیان میں سامنے آیا۔ الزعوری یمن میں ہائر ریلیف کمیٹی کے نائب سربراہ بھی ہیں۔

یمنی وزیر نے باور کرایا کہ حوثی ملیشیا نے اقوام متحدہ کی تنظیموں اور بین الاقوامی اور مقامی تنظیموں کے کام میں رکاوٹیں ڈالنے اور امدادی سامان کی لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق الزعوری نے واضح کیا کہ حوثی ملیشیا نے گذشتہ برس کے دوران میں حجہ صوبے کے ضلع اسلم میں عالمی پروگرام برائے خوراک کے گوداموں پر دھاوا بول کر تقریبا 120 ٹن آٹا لوٹ لیا۔ عبس کے علاقے میں بنو حسن پناہ گزین کیمپ کے متاثرین کے لیے مختص امدادی سامان اپنے قبضے میں لے لیا۔ علاوہ ازیں 16 ہزار فوڈ باسکٹوں کو اپنے ارکان میں تقسیم کر دیا۔

یمنی وزیر نے تصدیق کی ہے کہ حوثی ملیشیا نے الجوف صوبے میں 90 ہزار خاندانوں کے لیے مختص امداد کی فہرستوں میں ہیرا پھیری کی۔ ملیشیا نے اپنی تیار کردہ فہرستیں بنا کر ان پر عمل درامد کیا۔

الزعوری کے مطابق دیگر کارستانیوں کے علاوہ حوثی ملیشیا نے انسانی امداد کے پروگراموں پر عمل درامد کے دوران میں امدادی تنظیموں اور ایجنسیوں پر ٹیکس اور فیس عائد کر دی۔ حوثی ملیشیا نے الحدیدہ کی بندرگاہ پر قبضہ کر لیا جو امدادی سامان لے کر آنے والے بحری جہازوں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا مرکز بن گیا۔

الزعوری نے زور دیا کہ حوثی ملیشیا بحری جہازوں کو اغوا کرنے یا انہیں حملوں کا نشانہ بنانے کے سلسلے میں جو کچھ بھی کرتی ہے وہ مجرمانہ تصرفات ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں