کوڑے کرکٹ میں بیٹھے کتاب پڑھتے بچے کی تصویر نے ہلچل مچا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان میں ایک دس سالہ شامی بچے "حسین" کی تصویر نے سوشل میڈیا پر لوگوں کے دل پگھلا دیے۔ تصویر دیکھ کر لوگوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر ہمدردی دیکھنے میں آ رہی ہے اور وہ اس بچے کی مدد کے واسطے اس کا پتہ معلوم کرنے کے خواہاں ہیں۔

تصویر میں یہ بچہ حسین کچرے کے ایک ڈرم میں بیٹھا نظر آ رہا ہے اور اس کے ہاتھوں میں کتاب ہے۔ یہ کتاب اس نے کچرے سے ہی نکالی تھی۔ حسین کی تصویر ایک نوجوان لبنانی انجینئر اور یونیورسٹی پروفیسر روڈرک مگامس نے اپنے کیمرے میں محفوظ کی۔ روڈرک نے حسین کو بیروت میں اپنے دفتر کے نزدیک دیکھا تو اس نے اس منظر کی تصویر لے لی۔

روڈرک نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اس نے حسین کو سات منٹ سے زیادہ وقت تک پورے شغف اور پیار کے ساتھ کتاب کے صفحات پلٹتے ہوئے دیکھا۔ خیال رہے کہ یہ کتاب بچوں کے لیے نہیں تھی۔

روڈرک کے ساتھ بات سے حسین کے جو حالات سامنے آئے ان کے مطابق وہ بہت ذہین بچہ ہے۔ اسے پڑھائی پسند ہے اور وہ صبح کے وقت اسکول جاتا ہے۔ دوپہر کے بعد حسین خردہ اشیاء جمع کرنے کا کام کرتا ہے تا کہ اپنے بیمار باپ اور چار بہنوں کی مدد کر سکے۔

روڈرک کے مطابق وہ ایک سوسائٹی کے ساتھ مل کر حسین اور اس کے گھرانے کی مدد کے واسطے مطلوب مالی رقم جمع کرنے پر کام کر رہا ہے۔ اس شرط کے ساتھ کہ حسین دوبارہ سے خردہ اشیاء جمع کرنے کا کام نہیں کرے گا اور اپنی تعلیم کے لیے پوری طرح فارغ ہو جائے گا۔

روڈرک کے مطابق بہت سے لوگوں نے حسین کی مدد کے طریقہ کار کے حوالے سے استفسار کیا ہے۔

سرکاری اندازے کے مطابق لبنان میں اس وقت 15 لاکھ کے قریب شامی پناہ گزینوں کی حالت میں رہ رہے ہیں۔ ان لوگوں نے جنگ کے حالات کے سبب اپنے ملک سے کوچ کیا۔ ان میں تقریبا 8.55 لاکھ افراد سرکاری طور پر پناہ گزینوں کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہیں۔ یہ تعداد لبنان کی آبادی کا ایک چوتھائی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں