"الروشان المدینی" مدینہ المنورۃ میں ایک منفرد طرز تعمیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

’الروشان المدینی‘ ایک منفرد تعمیراتی آرٹ ہےجس کی نسبت مدینہ منورہ کے ساتھ ہے۔ مدینہ منورہ کے باشندے اس طرز تعمیر سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔

"الراواشین" اب بھی مدینہ منورہ کی کئی عمارتوں میں دکھائی دے رہا ہے۔ یہ تعمیراتی ڈیزائن شاندار نوشتہ جات اور مخصوص ڈیزائن کی وجہ سے منفرد مقام رکھتا ہے۔

مدینہ کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے انجینیر حسان طاہر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "الراواشین" ایک اہم ترین تعمیراتی اور جمالیاتی اصطلاح ہے جس نے روایتی عمارتوں کے فرنٹ کے ڈیزائن کو متاثر کیا ہے۔ یہ آرٹ چودھویں صدی ہجری کے شروع ہوا اور تیزی سے پھیلتا رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ الراوشین کھڑکیوں کا نمایاں لکڑی کا غلاف ہے اور مدینہ منورہ میں روایتی مکانات کے اگلے حصے کے بیرونی سوراخ ہیں۔ رواشین کے ڈیزائن اور اس کے مختلف حصوں کی تشکیل میں بنیادی اور واحد عنصر لکڑی ہے۔ مختلف آرائشی فارمیشنوں میں لکڑی کے کھوکھلے پارٹیشنز جو رواشین کے کچھ حصوں میں ظاہر ہوتے ہیں یا اسے مکمل طور پر ڈھانپ دیتے ہیں۔

سب سے اہم حصہ

انہوں نے نشاندہی کی کہ شہری رواشین "غولہ" پر مشتمل ہے۔ یہ نمایاں حصہ ہے جو رواشین کی سطح کو آگے بڑھاتا ہے۔ "مشربیہ" کے ساتھ ساتھ "شیش" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مشربیہ کو تین سمتوں سے ڈھانپتا ہے تاکہ روشان میں ہوا کے داخلے کو آسان بنایا جاسکے۔

نیز وہ "کوابیل" جن پر روشان اکثر لدا ہوتا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ مختلف "راواشین المدینیہ" کی تشکیل اور ان کی کثیر اقسام کے باوجود، "الراواشین" کو دو اہم زمروں میں درجہ بندی کیا جا سکتا ہے۔ سادہ "راواشین"، جو روایتی شہری گھر کی ضروریات کے مطابق بنائے گئے ہیں۔

دوسرا، مرکزی "راواشین" ہے جس میں روایتی شہری عمارتوں کے اگلے حصے کو مزین کیا جاتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ روشان روشنی اور تازہ ہوا کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ یہ ان کے لیے روایتی گھر تک زیادہ سے زیادہ راستہ فراہم کرتی ہے۔ اگر روشان دیوار کی موٹائی سے باہر نکل رہا ہو اس طرح ہوا اور روشنی کا راستہ روکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں