امریکی صدر کا حوثیوں کو دہشت گرد قراردینے پرغور، متحدہ عرب امارات کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن نے یمن کی ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کو دوبارہ دہشت گردوں کی فہرست میں ڈالنا پر غور کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر کی طرف سے حوثیوں کو دہشت گرد قرار دینے سے متعلق موقف کا خیر مقدم کیا ہے۔

واشنگٹن میں اماراتی سفارت خانے نے اس معاملے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ملیشیا کی جانب سے شہری اہداف پر بیلسٹک اور "کروز" میزائل داغنے کی مذمت کی۔

اماراتی سفارت خانے نے ٹویٹر پر اپنے آفیشل پیج پر ایک ٹویٹ میں لکھا کہ "مسئلہ واضح ہے۔ حوثی باغی شہری اہداف پر بیلسٹک اور "کروز" میزائلوں کے حملے کر رہے ہیں۔ جارحیت کے تسلسل کے ساتھ ساتھ وہ یمن میں امن مساعی کو سبوتاژ کر رہے ہیں‘‘۔

'جنگ بندی مشکل ہے'

تازہ پیش رفت امریکی صدر کی بدھ کے روز ایک غیر معمولی پریس کانفرنس میں العربیہ/الحدث کے ایک سوال کے جواب کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یمن میں جنگ کو روکنا مشکل ہو گا کیونکہ امریکا کو اسے ختم کرنے کے لیے اتحادیوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کی انتظامیہ حوثیوں کو دہشت گردوں کی فہرست میں واپس کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی۔

دریں اثنا امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ذریعے نے وضاحت کی ہے کہ امریکی انتظامیہ نے یمن میں کشیدگی میں کردار ادا کرنے والے حوثی رہ نماؤں کو سزا دی ہے اور وہ سزا بھی دے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ حوثی رہ نماؤں کو سزا دے گا جو شہریوں کے لیے خطرہ ہیں۔ یمن میں تنازعع کو بڑھانے والے اداروں کو نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کرے گا۔

خیال رہے کہ گذشتہ سوموار کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظبی میں ایک آئل ٹینکر پر ڈرون حملے میں ایک پاکستانی سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

یمن کے حوثی باغیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس کے بعد متحدہ عرب امارات نے امریکا سے حوثیوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں