شام :جیل پرداعش کے حملے کے بعد لڑائی میں 70 سے زیادہ افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے شمالی شہر الحسکہ میں ہفتے کو داعش اور کرد فورسز کے درمیان تیسرے روز بھی لڑائی جاری ہے۔سخت گیرجنگجوگروپ نے الحسکہ میں واقع غویرن جیل میں قید اپنےانتہا پسند ساتھیوں کو رہاکرانے کے لیے ایک بڑا حملہ کیا تھا۔اس کے بعد ان کی کردسکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی میں 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

داعش کی گذشتہ تین کے سال دوران میں کردسکیورٹی فورسز کے خلاف یہ سب سے بڑی کارروائی ہے۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن نے بتایا ہے کہ جھڑپوں میں کرد سکیورٹی فورسز کے 28 ارکان، پانچ شہری اور داعش کے 45 جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔

رصدگاہ نے بتایا کہ داعش نے جمعرات کی شب جیل میں قید اپنے قریباً 3500 مشتبہ ارکان کو رہا کرانے کے لیے حملہ کیا تھا۔اس کے بعد کردسکیورٹی فورسز نے سیکڑوں انتہاپسند قیدیوں کودوبارہ حراست میں لے لیا ہے اورخیال کیاجاتا ہے کہ 10 کے قریب قیدی فرارہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

کرد اکثریتی شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے ترجمان فرہاد شامی نے کہا کہ جیل اور اس کے آس پاس غیرمعمولی صورت حال ہے۔ہفتہ کی صبح جیل کے شمالی حصے میں لڑائی ہو رہی تھی۔

داعش نے اپنی خبررساں ایجنسی اعماق کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ جیل پر اس کے حملے کا مقصد’’قیدیوں کو رہا کراناتھا‘‘۔

مارچ 2019ء کے بعد سے داعش کے جنگجوؤں نے شام میں کرد اور حکومتی اہداف کے خلاف حملے جاری رکھےہیں۔انھوں نے زیادہ ترگوریلا حملے دوردرازعلاقوں میں فوجی اہداف اور تیل کی تنصیبات پر کیے ہیں لیکن الحسکہ میں جیل پرحملہ اس گروپ کے دوبارہ منظم ہونے کی علامت بن سکتا ہے۔

کرد حکام طویل عرصے سے خبردار کررہے ہیں کہ ان کے پاس داعش کے ہزاروں جنگجوؤں کو کئی سال تک زیرحراست رکھنے کی صلاحیت نہیں ہے، چہ جائیکہ ان کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں۔کردوں کے زیرانتظام متعدد جیلوں میں 50 سے زیادہ قومیتوں کی نمائندگی کرنے والے داعش کے 12 ہزار سے زیادہ مشتبہ افراد قید ہیں۔

واضح رہے کہ شام میں 2011ء میں صدر بشارالاسد کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے بعد جنگ شروع ہوگئی تھی اوراس میں اب تک کم سے کم پانچ لاکھ افرادہلاک ہوچکے ہیں اور لاکھوں دربدر ہیں۔دوسری جنگ عظیم کے بعد تنازعات کی وجہ سے شام میں سب سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں