’پرندوں میں میری جان ہے،پانچ سال میں نایاب پرندوں کا البم بنایا‘

2500 میٹر کی بلندی سے لی گئی پرندوں کی جادوئی تصاویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک سعودی فوٹوگرافر نے جمالیاتی مناظر اور رنگوں کے حامل پرندوں کی مختلف اقسام کو تصاویر میں محفوظ کیا ہے جنوبی سعودی عرب کے شہر جازان میں واقع الحشر پہاڑوں میں سطح سمندر سے2500 میٹر کی بلندی پر پائے جاتے ہیں۔

فوٹوگرافر حسین الحریصی نے پرندوں کی تصاویر کا ایک البم پیش تیار کیا ہے۔ انہوں نے یہ تصاویر الحشر پہاڑوں سے 5 سال کے دوران اکٹھی کیں۔ کہتے ہیں ’مجھے بچپن سے پرندوں کو دیکھنے اور ان کی شکلوں پر غور کرنے کا شوق رہا ہے، یہاں تک کہ میں نے اس میں مہارت حاصل کی‘۔ پرندوں کی ان کی خوبصورتی اور رنگوں کی کثرت کی وجہ سے فوٹو گرافی کرنا ایک مشکل فن ہے مختلف حالات میں پرندوں کی فوٹو گرافی کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔

انھوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے الحشر پہاڑوں کے 60 سے زیادہ نمایاں پرندوں کی تصویر کشی کی ہے جن میں کالا عقاب بھی شامل ہے۔ یہ پرندہ یہاں کثرت سے پایا جاتا ہے۔ یہاں کے پرندوں کے بارے میں ہمارے اجداد میں بہت سے قصے کہانیاں بھی مشہور ہیں۔ قواق اور دیدریک یہاں کے خوبصورت ترین پرندے ہیں۔

اسی طرح افریقی فلائی ہک، سکل کیپ اور بہت سے دوسرے نقل مکانی کرنے والے پرندے بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔

الحریصی نے وضاحت کی کہ پرندوں کی تصویر کشی کرنے کا ان کا مقصد پرندوں کے وسیع تنوع کو پھیلانا ہے۔ میں یہ دکھانا چاہتاں کہ الحشر پہاڑوں میں پرندوں کی کون کون سی انواع موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں