سعودی عرب: خواتین کے استحصال میں ملوث پاکستانی کی گرفتاری کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں پبلک پراسیکیوٹر نے ایک پاکستانی تارک وطن کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے۔ اسے ایک متنازع ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے۔ کہا جا رہا ہے جس جگہ یہ ویڈیو بنائی گئی وہاں پر خواتین کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔

یہ شخص ایسی خواتین جو قانون اوراخلاقی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی سرگرمیوں میں اپنے مالکوں کے گھروں سے بھاگنے والے گھریلو ملازمین کا استحصال کرنے کی جگہ سمجھا جاتا ہے۔

پبلک پراسیکیوشن کے ایک سرکاری ذریعے نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک ویڈیو کلپ کے حوالے سے پارلیمانی مانیٹرنگ سینٹر کی طرف سے جمع کرائے گئے مواد کی بنیاد پر جس کے مواد سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی تارک وطن نے جسم فروشی اور جنسی استحصال کے لیے ایک اڈہ تیار کر رکھا ہے۔

ریاض شہر میں متعدد خواتین کارکنان جو اپنے کفیلوں کے گھروں سے غائب ہیں انہیں مبینہ طور پر بلیک میل کیا جاتا ہے۔ پبلک پراسیکیوٹر جنرل الشیخ سعود بن عبداللہ المعجب نے مجرم کو گرفتار کرنے اور اسے فوری طور پر پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کرنے کا حکم جاری کیا ہے تاکہ اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔

ذریعے نے وضاحت کی کہ پبلک پراسیکیوشن ملزم کو مجاز عدالت کے پاس بھیجے گا تاکہ اس پر انسداد اسمگلنگ کے قانون میں طے شدہ سزائیں اسی نظام کے آرٹیکل 4 کے مطابق سخت کرنے کے ساتھ اس پر عائد کی جائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں