سعودی عرب میں فرقوں اور روایات کی قیود سے ماورا مکالمہ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

یہ سترہ سال قبل مشرقی سعودی عرب کے علاقے قطیف سے منسلک گاؤں "ام الحمام" میں شب تھی جس میں گرما گرم بحث کا ایک طوفان برپا تھا۔ یہ گرما گرم علمی مجلس پروفیسر علی الحرز کے گھر پر برپا تھی۔

اس مجلس کے دوران ایک نوجوان نے کاغذ پرلکھی ایک عبارت پیش کی۔ اس میں کچھ ایسی بات کی گئی تھی جس کا اس وقت تذکرہ ممنوع سمجھا جاتا یا اسے مقدسات کی توہین کے معنوں میں لیا جاتا تا۔ اس میں امام علی بن علی طالب رضی اللہ عنہ کی سیرت کے بارے میں بات کی گئی تھی۔ مگر مجلس میں موجود ہرایک نے اس تحریر کو خندہ پیشانی سے برداشت نہیں کیا۔ کچھ نے سخت الفاظ میں اسے مسترد کردیا۔ بعض نے نرم لہجہ اپنا جب کہ کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے خاموشی اختیار کی۔ خاموشی اختیار کرنے والوں میں راقم بھی شامل تھا۔ مسلکی اعتبا سے مجھے بھی اس تحریر سے اختلا ف تھا کیونکہ یہ عبارت ٹھوس علمی دلائل وبراہین سے خالی تھی۔ تاہم یہ ایک رائے تھی اور رائے کا جواب رائے ہی سے دیا جا سکتا ہے۔ میرے نزدیک آزادی اظہار انسانیت کی بنیادی قدر ہے جس میں کسی افراط و تفریط کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

دوستوں کی آرا میں اختلاف

یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ ابو کفاح کی مجلس میں اس قسم کی فکری بحث ہو رہی تھی۔ اختلاف رائے کرنے والوں کی بحث کے درست یا غلط ہونے کے تاثر سے قطع نظر یہ بحث اپنی اہمیت رکھتی تھی۔ یہ مکالمے کی اساس تھی۔ میں ایک اوائل جوانی میں تھا اور اس عمر کے ایک نوجوان کے طور ہماری تربیت فکری اختلاف رائے کی بنیاد پر ہوئی تھی اور ہمارے لیے اختلاف رائے کو احترام کے ساتھ دیکھا جاتا تھا۔ انسانی دماغ اور سوچ میں تنوع فطری بات اور بشری تقاضہ ہے۔ ہرشخص کو اپنی رائے پیش کرنے کا حق ہے مگر کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اختلاف رائے کے بجائے تشدد اور مادی نقصان کا راستہ اختیار کرے۔

اگرچہ اس مجلس میں موجود ہمارے اس ’دوست‘ کی پیش کردہ تحریر’طوفانی کاغذ‘ سے کم نہ تھی مگر اس کی اپنی آواز بہت ہلکی تھی۔ جب اسے بہت سے لوگوں نے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو اسے دل میں پشیمانی ہوئی۔ اس کے باوجود شرکا مجلس میں گفتگو اونچی ہوتی گئی اور مجلس میں بات چیت ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ تاہم کچھ دیر بعد مجلس میں سکون ہوگیا مگر تب تک نقصان ہوچکا تھا۔

مذہبی اور قدامت پسند طبقے میں رد عمل فطری چیز ہے۔ ایسے معاشرے میں کچھ لوگ اپنا قد اونچا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ رائے عامہ سے باہر نکل جاتے ہیں، ،مگر ہر ایک کا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔

اختلاف رائے میں اعتدال کی تربیت

اختلاف رائے کو برداشت کرنا ایک سخت مشکل اور حقیقی مشق ہوتی ہے۔ اس میں انسان کو مختلف رائے کو برداشت کرنے کی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔

خاص طور پر چونکہ اس وقت جب ایک طرف سماجی ہم آہنگی کی بات کی جائے اور دوسری طرف مخالفت پر زور دیا جائے۔

خاص طور پر "صحوی" وہ دھارا ہے جو سعودی شیعوں میں آہستہ آہستہ سرایت کرتا رہا۔ اس کا مقصد ان کے عقائد کو کمزور کرنا ہے۔ لہٰذا مذہبی فکر اور نظریاتی گفتگو کے کسی بھی سماجی جائزے یا مطالعے کو اس خوف سے روکنے کی کوشش کی گئی کہ یہ تنقیدی طرز عمل معاشرے کی ہم آہنگی کو توڑدے گا یا اس کے فکری نظام کو سبوتاژ کر دیں گے۔

اس مجلس کو اس کے میزبان علی الحرز نے پروان چڑھایا تھا اور بعد میں اسے ’جدل لائبریری‘ میں تبدیل کردیا گیا۔ جو کہ ادب اور ثقافت سے دلچسپی رکھنے والے بہت سے لوگوں کی منزل بن گئی ہے۔ اس مکتبے کے لی ابو کفاح نے نے سینکڑوں مختلف عنوانات پر کتابیں، بہت سے انسائیکلوپیڈیا، رسالے اور اخبارات جمع کیے اور محققین کے لیے اپنی لائبریری کھول دی۔

مختلف مکاتب فکر کے لیے مقام ملاقات

علی الحرز کی مجلس سے قبل سیھات شہر میں ابراہیم الزاکی کی اسی نوعیت کی ایک مجلس منعقد ہوا کرتی تھی۔ اس مجلس میں ہربار کسی ایک فرد کو اس کی ذمہ داری سونپی جاتی۔ وہ شخص مجلس میں زیر بحث موضوع، بحث میں بات چیت کے طریقہ کار اور افکار وتصورات کو پیش کرنے کا طریقہ وضع کرتا۔

ہمارا یہ میزبان ادب اور اخلاق عالیہ کا پیکر تھا اور اس مجلس میں شرکت کرنے والے تمام دوست سکون اور محبت کے ساتھ مکالمے میں حصہ لیتے۔

ابراہیم الزاکی شرکا سے ایسے خندہ پیشانی سے ملتے جیسے ان کا چہرہ سورج کی طرح چمک رہا ہو۔ ان کی خاموش طبعی کے باوجود ان کی مجلس شرکا سے بھرجاتی اور وہ مذہبی، لبرل اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی آرا کو فراخ دلی سے سنتے۔

اس وقت مجلس میں آنے والے کچھ لوگ علامہ محمد الشیرازی کے پیروکار تھے جو اسلام کے سیاسی تصور سے کنارہ کش اور سنہ 1970ء کی دھائی میں بائیں بازو کے تجربے سے متاثر تھے۔ اس وقت لوگ سماجی اور فکری اعتبار سے لبرل طبقے کے زیادہ قریب تھے مگر اس کے باوجود الزاکی کی مجلس میں ہرنوعیت کے فکر اور مذہبی نظریات پر بات کی جاتی تھی۔

دیوانیہ الغدیر

میرے لیے ذاتی طور پر ایک بھرپور تجربہ تھا۔ جزیرہ تاروت پر واقع "دیوانیہ الغدیر" میں یہ مجلس شاعر شفیق العبادی کے گھر میں منعقد ہوتی تھی۔ یہ ہفتہ وارملاقات کا ایک موقع ہوتا تھا۔ بحث صبح سویرے اور پھر گھر کے سامنے ہوتی۔ ہم اپنے ہاسٹل میں داخل ہونے سے پہلے فلم دیکھنے کے بعد یا شاعری کی کتاب پڑھتے یا کسی کتاب، ناول کے اقتباسات پڑھتے ہیں۔ کوئی تحقیقی مقالہ یا مضمون،تازہ سیاسی واقعات، گرما گرم سماجی مسئلے یا مذہبی امور پر بات کرتے اور ساتھ گرما گرم چاہے سے محظوظ ہوتے۔

12 جولائی 2020 کو "الدیوانیہ" کے ایک مستقبل رکن عبدالباری الدخیل نے اپنے فیس بک پیج پر پرانے دنوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے ایک تبصرہ پوسٹ کیا جس میں لکھا کہ "میرے دوست شفیق العبادی نے بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی مجلس محبت کی وسعت کے ساتھ دلوں کی وسعت کی آئینہ دار ہے۔ ان کے یہ الفاظ مجھے اس مجلس کی یاد دلاتے ہیں۔ دیرہ میں ان کے گھر میں یہ ایک چھوٹی سی محفل تھی لیکن جیسا کہ ابو فراس نے بیان کیا ہے یہ محبت کے ساتھ کشادہ دلی کی مجلس تھی. ہم اس مجلس میں محبت کو جوڑتے ہیں۔ فکر، شاعری اور ادب، وقت کے واقعات، ادیبوں کی تخلیق، اور شاعروں کے تذکرےپڑھتے۔اس پر ہم محبت سے بحث کرتے ہیں۔ جب اختلاف ہوتا ہے تو کوئی حق کا دعویدار اپنے مکالمے کو دھونس نہیں دیتا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں