عراقیوں کاگیس کی سپلائی میں کمی کے بعد ایران کی مصنوعات کے بائیکاٹ کامطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے شہریوں نے سوشل میڈیا پرایران کے خلاف ایک مہم برپا کی ہے۔اس میں ایرانی مصنوعات کے بائیکاٹ پر زور دیا گیا ہے۔

وہ ایران کی جانب سے عراق کو مہیا کی جانے والی گیس کی سپلائی میں کمی کے بعد یہ مہم چلارہے ہیں۔اس فیصلے کے نتیجے میں عراقیوں کوطویل دورانیے کی بجلی کی بندش کا سامنا ہے۔

عراق کی وزارت بجلی نے ایران کی جانب سے گیس کی ترسیل میں کمی کو جزوی طورپربرقی رو کے تعطل کا سبب قراردیا ہے۔وزارت کے ترجمان احمد موسیٰ نے بتایا کہ ایران سے گیس کی ترسیل پانچ کروڑمکعب میٹر یومیہ سے کم ہوکر صرف 80 لاکھ مکعب میٹر کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔

اس کے ردعمل میں سوشل میڈیا پر کچھ عراقیوں نے ایران مخالف مہم شروع کی ہے۔اس میں عراق میں ایرانی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس مہم کو عربی ہیش ٹیگ کے ساتھ آگے بڑھایا جارہا ہے اور اس کا عنوان:(ترجمہ)’’اسے خراب ہونے دیں‘‘رکھا گیا ہے۔

ایک صارف نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’’عراقی عوام نے اب ایران کومعاشی سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔

ایک اور نے لکھا:’’ایران کی مصنوعات کا اسی طرح بائیکاٹ کریں جس طرح انھوں نے ہماری بجلی کاٹ دی ہے‘‘۔

ایک اور شخص نے کہا کہ ’’ایران پانی اور بجلی کاٹ کر عراقی عوام کی تذلیل کرناچاہتا ہے۔اس صورت میں ایران کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا قومی فریضہ ہے‘‘۔

ایران نے بغداد کے ذمے واجب الادا بلوں کی وجہ سے عراق کو گیس کی سپلائی میں کمی کی ہے۔ایران کی نیشنل گیس کمپنی کے مطابق عراق گیس کی درآمد کی مد میں پانچ ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم کا مقروض ہے۔

دوسری جانب عراق کا مؤقف ہے کہ وہ ایران کے بنک کاری نظام پر پابندیوں کی وجہ سے قرض کی یہ رقم ادا نہیں کر سکا ہے۔امریکا نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورمیں 2018ء میں ایران پردوبارہ اقتصادی پابندیاں عاید کی تھیں اوراس کے بنک کاری نظام کو بالخصوص ان پابندیوں کا ہدف بنایا گیا تھا۔ان کی وجہ سے دوسرے ممالک ایران کے مرکزی بنک کے ساتھ کوئی مالی لین دین نہیں کرسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں