سعودی فوٹوگرافر ربع خالی کے بیچ گندھک کی جھیلوں کے راز جاننے کا خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی فوٹوگرافر 'سیاف دشن' نے ربع خالی صحرا کی ریت کے بیچ گندھک کے پانی (سلفر واٹر) کی موجودگی کے منفرد اور انوکھے مناظر کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا ہے۔ اس مقام کا نام "عين حميدان" (حمیدان کا چشمہ) ہے۔ یہ مقام ربع خالی صحرا کے مشرق میں ریت کے ٹیلوں کے بیچ واقع ہے۔

سیاف دشن نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اس نے یہ تصویر اُس وقت لی جب وہ اپنے بعض دوستوں کے ساتھ شرورہ ضلع سے ربع خالی کے مشرق میں عُمان کے نئے راستے پر سفر کر رہا تھا۔ اس دوران وہ 1500 کلو میٹر کے قریب مسافت طے کر چکا تھا۔ یہ جگہ "ام الحیش" کی جھیلوں کے نزدیک واقع ہے۔ ام الحیش صاف اور شفاف پانی کی چھوٹی جھیلوں کا مجموعہ ہے۔ ان کے کناروں پر مختلف نوعیت کے پودے اُگے ہوئے ہیں۔

سیاف کے مطابق سعودی محقق اور علاقے کے رہبر ناصر الوہبی یہ تصدیق کر چکے ہیں کہ حمیدان کا چشمہ خشک ہو گیا تھا اور یہ دوبارہ سے جاری ہوا ہے۔ سیاف نے بتایا کہ یہ سفر مہم جوئی سے بھرپور تھا۔ اس کے ذریعے کنوؤں ، نخلستانوں ، ریتیلی زمینوں اور گندھک کے چشموں کی خوب صورتی سامنے آئی۔ علاوہ ازیں ربع خالی صحرا کا روشن ستاروں سے بھرپور آسمان ماحول کو چار چاند لگاتا ہے۔

سیاف کا کہنا ہے کہ قدرتی عناصر کی تصویر کشی کسی بھی فوٹوگرافر کے لیے ایک حقیقی چیلنج ہوتا ہے۔ اس لیے کہ یہ آپ کو دوبارہ سے اس لمحے کو کیمرے میں محفوظ کرنے کا موقع نہیں دیتی ہے۔ مزید یہ کہ ان مقامات تک پہنچنا دشوار گزار امر ہوتا ہے اور پھر انتظار ، نگرانی اور صبر کے طویل عرصوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں