غربِ اردن:اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینی گاؤں پرحملہ،گاڑیوں اورعمارتوں پرپتھراؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع فلسطینیوں کے ایک گاؤں پریہودی آبادکاروں نے دھاوا بول دیا ہے اور وہاں توڑ پھوڑ کی ہے۔

ایک فلسطینی عہدہ دار نے بتایا کہ یہودی آبادکاروں نے فلسطینی گاؤں سے گزرتے ہوئے گاڑیوں اورکاروباری اداروں کی کھڑکیوں پرپتھراؤکیا ہے جس سےایک نوعمر لڑکا زخمی ہوگیا۔حالیہ مہینوں میں یہودی آبادکاروں کا فلسطینیوں پریہ تازہ حملہ ہے۔

گذشتہ جمعہ کوآبادکاروں نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں اوراسرائیلی امن کارکنوں پرحملہ کیا اورایک کارکوآگ لگا دی۔گذشتہ ماہ ایک آباد کارکو فلسطینی بندوق بردار نے گولی مارکرہلاک کردیا تھا جس کے نتیجے میں انھوں نے فلسطینیوں کے خلاف بلاامتیازانتقامی حملے شروع کردیے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے پیر کے روز اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ اسرائیلیوں نے’’نمایاں نقصان‘‘پہنچایا ہے اور پولیس نے تحقیقات کاآغازکردیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے ایک عہدہ دارغسان دغلس نے بتایاکہ ایک فلسطینی نوعمرلڑکے کے سرمیں پتھرلگنے کے بعد اسے اسپتال لے جایا گیا ہے۔اس لڑکے کو معمولی زخم آیا ہے۔

دریں اثناء اسرائیلی وزیردفاع بینی گینز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’جو کوئی بھی پتھرپھینکتا ہے یا کاروں کو آگ لگاتا ہے،وہ دہشت گرد ہے اور اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جائے گا‘‘۔

اسرائیلی حکام نے حالیہ مہینوں میں یہودی آبادکاروں کے تشدد کے خلاف کارروائی کرنے کا باربارعزم کیا ہے جبکہ فلسطینیوں اوراسرائیل سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ فوج شاذہی مداخلت کرتی ہے اوراکثرآباد کاروں ہی کا ساتھ دیتی ہے۔

اس وقت مقبوضہ مغربی کنارے میں قریباًپانچ لاکھ اسرائیلی آبادکار130 بستیوں اوردرجنوں غیرقانونی چوکیوں میں رہتے ہیں۔فلسطینی ان بستیوں کودیرینہ تنازع کے حل میں بنیادی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔زیادہ ترممالک ان بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کے منافی اور غیرقانونی قرار دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے1967ء کی جنگ میں مغربی کنارے کے علاقے اور بیت المقدس پر قبضہ کرلیا تھا۔فلسطینی مستقبل میں قائم ہونے والی اپنی ریاست میں تمام غربِ اردن کو شامل کرنا چاہتے ہیں جبکہ اسرائیل مغربی کنارے کو یہودکا تورات کے مطابق تاریخی مرکز سمجھتا ہے۔اسرائیل کی غربِ اردن میں یہودی آبادکاری کی سرگرمیوں کی وجہ ہی سے فلسطینیوں نے اس کے ساتھ مذاکرات کا بائیکاٹ کردیا تھا اور گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں فریقین میں کوئی ٹھوس امن مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں