پکنک کے دوران ایک سعودی کو جازان میں قیمتی خزانہ مل گیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے شہری ابراہیم مشرقی نے یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ مملکت کے جنوب مغرب میں واقع جازان کے ایک مقام پراسے اس کی چھوٹی سی پکنک کے نتیجے میں لاکھوں سال پرانا قدرتی خزانہ مل جائے گا۔

جنوب میں جازان کے مقامات میں سے ایک میں مشرقی نے سمندر سے دسیوں کلومیٹر کے فاصلے پر لاکھوں سال پرانے سمندری فوسلز کا ایک بڑا رقبہ پایا۔ یہ علاقہ جبال سراوت سے گھرا ہوا ہے۔

انھوں نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دریافت ایک پکنک کے دوران ہوئی جسے ارضیاتی پکنک کہا جا سکتا ہے۔اس دوران ایک پہاڑی علاقے میں سمندری مخلوقات بڑی مقدار میں پائی گئیں۔ وہ اس سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے سعودی جیولوجیکل سروے سے براہ راست بات چیت کی جس پرمحکمے کے اہلکاروں نےمختصر مدت کے دوران اس جگہ کا دورہ کیا۔

جراسک دور

انہوں نے مزید کہا کہ ماہرین ارضیات نے اس جگہ کو تلاش کیا اور دریافت کیا۔ یہ ثابت ہوا کہ یہ تقریباً 140-180 ملین سال پرانا ہے جسے جراسک دور کہا جاتا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ سائٹ کے دورے کے دوران انہوں نے الریث گورنری میں القہر پہاڑوں کا بھی دورہ کیا لیکن وہ فوسلز سے مالا مال ہونے کی وجہ سے اس جگہ پر واپس آئے۔ یہاں پر 20 سےپچیس کلو میٹر کے علاقے پر حیرت انگیز دریافتیں موجود ہیں۔

مشرقی نے بتایا کہ اس علاقے میں پائے جانے والے فوسلز میں مختلف قسم کے خول شامل ہیں، اس کے علاوہ سمندری للی، ستارہ مچھلی، سمندری ارچن اور کچھ سمندری مخلوق جن کی قسم کا تعین ارضیاتی سروے کرنے والوں نے نہیں کیا تھا۔

قدرتی میوزیم

انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ جگہ شمالی اور جنوبی اطراف سے کان کنی کے کاموں سے گھری ہوئی ہے۔جنوبی جانب ایک سیمنٹ فیکٹری ہے اور شمال میں کرشرز اور کان کنی کے گڑھے ہیں۔ اس سے سائٹ منفی طور پر متاثر ہوئی اور فوسلز تباہ ہوئے ہیں۔

انہوں نے مجاز حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جگہ پر توجہ دیں کیونکہ یہ سمندری فوسلز سے بھرپور ایک قیمتی خزانہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک کھلا قدرتی عجائب گھرہے۔ ان فوسلز کوکسی نجی یا بند میوزیم میں منتقل کر دیا جائے تاکہ اس خصوصیت کے محققین اس کی تلاش کر سکیں اوران سے فائدہ اٹھائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں