’حرم مکی انسٹیٹیوٹ‘ تشنگان تحصیل علم دین کا عالمی مرجع!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کرونا وبا کے دنوں میں حرم مکی انسٹیٹیوٹ عملی ٹیکنیکل اور انتظامی تعلیمی تبدیلی کےعمل سے کامیابی سے گذرا۔ اس دوران حرم مکی انسٹیٹیوٹ میں آن لائن رجسٹریشن کا عمل100 فی صد آپریٹ ہوا۔ اس دوران طلبا کی آن لائن تعلیم و تدریس میں معاونت کے لیے آن لائن ڈیجیٹیل پلیٹ فارم کو فعال انداز میں استعمال کیا گیا۔

اس کے علاوہ حرم مکی انسٹیٹیوٹ نے ٹیکنالوجی کی تزویراتی کمپنی مائیکرو سافٹ کے تعاون سے بہتر ٹیکنیکل سرگرمیاں انجام دی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انسٹیٹیوٹ کی طرف سے 1500000 آن لائن اکاؤنٹس کی سہولت دی گئی۔

تحصیل علم دین کا عالمی قبلہ

حرم مکی انسٹیٹیوٹ میں سعودی عرب سمیت چالیس ممالک کے طلبا زیر تعلیم ہیں۔ اس علمی درس گاہ کو مسجد حرام کے پہلو میں واقع ہونے کا شرف حاصل ہونے کے ساتھ عالمی مینارہ علم قرار دیا جاتا ہے۔

صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین کے مطابق حرم مکی انسٹیٹیوٹ کے قیام کا تخیل سنہ 1385ھ میں اس وقت سامنے آیا جب صدارت عامہ کے جنر مینیجر عبداللہ بن حمید نے اس وقت کے فرمانروا شاہ فیصل بن عبدالعزیز کے سامنے اس کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ مسجد حرام میں ایک دینی علوم کے ادارے کی اشد ضرورت ہے تاکہ دنیا بھر سے دینی علوم کے حصول کے خواہاں طلبا کی علمی ضرورت پوری کی جا سکے اور اس ادارے کو شرعی علوم کی تحصیل کے لیے عالمی قبلہ کا درجہ حاصل ہو۔

علم کی خدمت میں سعودی عرب کا کردار

صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین کا کہنا ہے کہ شاہ فیصل نے مسجد حرام میں اسلامی شریعت کے علوم ،اسلام کی اعتدال پسندانہ تعلیمات کوعام کرنے اور مسلمانوں میں کتاب وسنت کی تعلیم عام کرنے کے لیے درس گاہ کے قیام کی تجویز سے اتفاق کیا۔ انہوں نے اس حقیقت کا ادراک کیا کہ حرم شریف میں ایک ایسا علمی ادارہ ہونا چاہیے جس کے ذریعے پوری دنیا میں کعبہ شریف کا پیغام عام ہو اور دنیا بھر کے مسلمان طلبا اپنے علم کی پیاس بجھانے کے لیے اس کا رخ کریں۔ آج حقیقی معنوں میں حرم مکی انسٹیٹیوٹ دنیا بھر کے لیے ایک علمی مرجع کا درجہ اختیار کرچکا ہے۔

صدارت عامہ برائے حرمین شریفین کا کہنا ہے کہ اس ادارے میں علم حاصل کرنے والے طلبا کو مڈل اور انٹرمیڈیٹ کے سرٹیفکیٹ جاری کیے جاتے ہیں۔ ادارے میں مرد طلبا کے ساتھ طالبات بھی موجود ہیں جس کی بنا پر انسٹیٹیوٹ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کے ملازمین کی تعداد 120 ہے جب کہ تمام تدریسی مراحل میں 2790 طلبا زیر تعلیم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں