سعودی عرب کا ریستوران جہاں کھانے کے ساتھ ڈرایا بھی جاتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں ایک ریستوران ایک انوکھا تجربہ پیش کر رہا ہے جہاں زومبیز اور ویمپائرز کی صحبت میں کھوپڑی اور خون کے ساتھ کھانا پیش کیا جاتا ہے۔

’شیڈوز‘ نامی یہ ریستوران ڈراؤنی فلموں اور کھانے کے شوقین افراد کے لیے متعارف کرایا گیا ہے جہاں وہ اپنی پسند کے کھانوں کا مزہ بھی چکھ سکتے ہیں جب کہ مختلف کپڑوں میں ملبوس عملہ انٹرایکٹو شوز کرتا رہتا ہے۔

یہ ڈراؤنا ریستوران سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بولیوارڈ انٹرٹینٹمٹ ڈسٹرکٹ میں واقع ہے۔

انسانی وسائل کے شعبے میں خدمات انجام دینے والی 26 سالہ دوشیزہ کے سامنے جب ویٹر ایک تھالی میں کھانے کے ساتھ سیاہ رنگ کی مسکراتی کھوپڑی لے کر آیا تو اسکا کہنا تھا کہ"میری تو بھوک ہی مر گئی" جبکہ اسکا دوست ڈاکٹر جواہر عبداللہ وہاں کھانا کھانے کے لیے بہت بے تاب تھا۔

ایک اداکار جسکی چھاتی سے مصنوعی خون بہہ رہا تھا کے ساتھ سیلفی لینے سے پہلے اس ماحول پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ جواہر نے کہا کہ"مجھے عام طور پر ڈراؤنی چیزیں پسند ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہاں کا ماحول بہت مزے دار اور دلچسپ ہے"۔

شیڈوز میں آنے والی 25 سالہ سعودی خاتون وکیل امانی نے کہا کہ ’اس ریستوران کا مقصد ڈراؤنا پن اور ڈراؤنی طرز کے پکوان ہیں جس نے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا۔ مجھے ہر ڈراؤنی چیز پسند ہے۔ ایک ڈراؤنے ریستوران میں کھانا وہ چیز ہے جو میں بہت پسند کرتی ہوں۔‘

اسی طرح ایک 45 سالہ تاجر سلیمان العمری کا کہنا تھا: ’ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ یہاں آئیں کیوں کہ ہم ہمیشہ ریاض میں دلچسپ کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل ہم انٹرٹینمنٹ کی تلاش میں ملک سے باہر جاتے تھے۔‘

روایتی لباس پہنے العمری کا مزید کہنا تھا کہ "عام طور پر ریستورانوں میں جانے کا مطلب کھانا، پیٹ بھرنا، گپ شپ لگانا اور پھر گھر چلے جانا ہوتا تھا۔ مگر اب ہم کھا بھی رہے ہوتے ہیں، اپنے وقت سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں اور خوفزدہ بھی ہو رہے ہوتے ہیں "۔

شیڈوز نامی ریستوران کے مینیجر ماجد العنزی کہتے ہیں کہ ’ہم نے ان اداکاروں کی تربیت کی تھی اور ان کے انداز پر کام کیا تھا۔ ہر وہ چیز سکھائی جو گاہکوں کی تفریح کے لیے ضروری تھی۔ ڈراؤنے پن کا ان کا تجربہ نکھارا اور یقیناً کھانے کا معیار بھی۔‘ انہوں نے بتایا ہے کہ ان کے ریستوران میں آئے دن لوگوں کی آمد کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ2017 میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورِ حکومت کے اندر مملکت میں بہت سی بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ ان کے بعد 2020 میں سعودی عرب نے اپنے دروازے سیاحوں کے لیے کھول دیے۔

ماضی میں، سعودی شہریوں کو تفریح کے لیے بیرون ملک سفر کرنا پڑتا تھا لیکن اب سماجی تبدیلی کے تحت سنیما گھر کھل چکے ہیں اور مختلف مقامات پر موسیقی کے پروگراموں میں مرد وزن یکسان طور پر محظوظ ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں