امریکی فوج کی کرد فورسز سے حسکہ میں داعش کے حملے پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں امریکی سفارت خانے کے مطابق قائم مقام خصوصی ایلچی جان گوڈفری اور نائب معاون وزیر خارجہ ایتھن گولڈرچ نے حسکہ میں قائم جیل پر داعش کے حملے کے بعد سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے رہ نماؤں کے ساتھ ورچوئل میٹنگ کی۔

امریکی فوج اور ایس ڈی ایف کے درمیان جمعہ کو ہونے والی ورچوئل ملاقات میں حسکہ جیل پر داعش کے حملے پر بات چیت کی گئی۔

سفارت خانے کے بیان میں کہا گیا ہےکہ’ایس ڈی ایف‘ کے ساتھ شراکت میں داعش کی پائیدار شکست کو یقینی بنانے کے لیے ہے اور اسے جاری رکھا جائے گا۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق جمعہ کے روز شام کی ڈیموکریٹک فورسز اور کرد سکیورٹی فورسز نے شمال مشرقی شام میں ایک جیل کے اندر سے اپنے تقریباً 20 ارکان کی لاشیں برآمد کیں، جنہیں داعش نے قتل کر دیا تھا۔

کرد فورسز اور ان کے اتحادی شدت پسند تنظیم کے چھپے ہوئے عناصر کی تلاش کے لیے جیل کے حصوں میں تلاشی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حسکہ شہر کی اس بڑی جیل پر کرد فورسز نے دو روز بعد اپنا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ یہ حملہ 20 جنوری کو کیا گیا۔ داعشی جنگجوؤں نے غویران جیل میں قید کیے گئے اپنے ساتھیوں کو چھڑانے کے لیے حملہ کیا اور متعدد سیکیورٹی اہلکاروں کو اغوا اور کئی کو قتل کردیا۔

سیریئن آبزرویٹری نے اطلاع دی ہے کہ فوجی دستوں نے جیل کی عمارتوں کے اندر کومبنگ آپریشن کے دوران 18 افراد کی لاشیں برآمد کیں جنہیں داعش کے ارکان نے قتل کیا تھا۔ انہوں نے جیل کے قرب و جوار میں واقع ایک مقام پر واشنگٹن کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد سے تعلق رکھنے والے ایک طیارے کے ذریعے رات کے وقت کیے گئے میزائل حملے کے نتیجے میں تنظیم کے 7 ارکان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔

اس طرح 8 روز قبل حملے کے آغاز کے بعد سے جیل کے اندر اور باہر مرنے والوں کی تعداد 260 ہو گئی ہے۔ جن میں سے 180 کا تعلق شدت پسند تنظیم سے ہے جب کہ کرد سیکیورٹی فورسز اور ایس ڈی ایف فورسز کے 73 افراد کے علاوہ 7 عام شہری بھی مارے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں