اکتوبر 2014 کے بعد پہلی بار تیل کی قیمتیں 91 ڈالر سے تجاوز کر گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں سات سال کی بلند ترین سطح کو پہنچ گئی ہیں۔ کل جمعہ کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 91 ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر گئی، جو سات سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔

اکتوبر 2014 کے بعد پہلی بار برینٹ کروڈ فیوچر 1.87 فیصد بڑھ کر 91.05 ڈالر فی بیرل ہو گیا، جبکہ یو ایس کروڈ فیوچر 1.69 فیصد بڑھ کر 88.10 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔

بدھ کو قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا کیونکہ روس اور مغرب کے درمیان تناؤ کے درمیان برینٹ کروڈ کی قیمت سات سال میں پہلی بار 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی۔ یمنی حوثی ملیشیا کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو ملنے والی دھمکیوں نے تیل کی منڈی میں ہنگامہ آرائی میں اضافہ کر دیا ہے۔

روس جو دنیا کا دوسرا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے یوکرین کے معاملے پر مغرب کے ساتھ الجھا ہوا ہے۔ جس سے یہ خدشہ پیدا ہو رہا ہے کہ یورپ کو توانائی کی سپلائی میں خلل پڑ سکتا ہے، حالانکہ خدشات کا مرکز خام تیل کی بجائے گیس کی سپلائی پر ہے۔

پرائس فیوچرز گروپ کے سینیئر تجزیہ کار ویل فلن نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان حالات میں کشیدگی کی خبروں کے باعث مارکیٹ بھی اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔

لیکن گزشتہ روز بھی قیمتیں منفی طور پر متاثر ہوئیں جب امریکی فیڈرل ریزرو نے بدھ کو کہا کہ مارچ میں شرح سود میں اضافے کا امکان ہے اور وہ مہنگائی کو روکنے کے لیے اسی مہینے میں بانڈ کی خریداری ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں