قیدیوں کی سزا کی مدت ’خریدنے‘ کا منصوبہ ابھی زیر غور ہے: کرنل بندر الخرمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

سعودی عرب میں ادارہ جیل خانہ جات کے ترجمان کرنل ڈاکٹر بندر الخرمی نے کہا ہے کہ قیدیوں کی سزا کی باقی ماندہ مدت ’خریدنے‘ کی ابھی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

العربیہ نیٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ترجمان جیل خانہ جات نے کہا کہ ’ رعایت ‘ کا منصوبہ زیر غور ہے تاہم اس پر عمل درآمد کا اعلان نہیں ہوا۔

قیدیوں کی سزا میں رعایت کے حوالے سے متعلقہ ادارے معاملات کی نوعیت پر غور کر رہے ہیں۔ حتمی فیصلہ ہوتے ہی متعلقہ سرکاری ذرائع سے اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔

واضح رہے ٹویٹر پر اس حوالے سے کہا جا رہا تھا کہ اس اقدام کے تحت قیدیوں کی باقی مدت رقم کے عوض خریدی جا سکے گی۔
سوشل میڈیا پر دعوی کیا جا رہا تھا کہ قیدی کی وہ مدت جو وہ بحق سرکار کاٹ رہا ہو گا اس کے ہر برس کے عوض وہ 18 ہزار ریال ادا کرنے کے بعد رہائی پا سکے گا۔

اس کا اطلاق ان قیدیوں پر ہو گا جن کی مادری زبان عربی نہیں ہے اور ان کے خلاف سنگین جرائم ملوث ہونے کا ریکارڈ موجود نہیں ہو گا اور جیل میں قید کے دوران ان کا چال چلن بہتر رہا ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں