غویران جیل پر سیرین ڈیموکریٹک فورسز کا کنٹرول، داعشیوں کی لاشیں ٹرکوں میں منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے شہر الحسکہ میں داعش تنظیم کے ساتھ تقریبا 10 روز تک جاری معرکہ آرائی کے بعد سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے غویران جیل پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس بات کی تصدیق شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے آج اتوار کے روز کی۔

معلومات کے مطابق ایس ڈی ایف نے مذکورہ جیل میں آخری عمارت کو بھی اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ اس عمارت میں داعش تنظیم کے سیکڑوں عانصڑ موجود ہیں۔ المرصد نے بتایا کہ ہفتے کی شام جیل کے اندر مسلح لڑائی کے بعد تقریبا 20 داعشی ارکان نے ہتھیار ڈال دیے۔ اس دوران میں پانچ داعشی مارے گئے۔

یاد رہے کہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے غویران جیل پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت داعش تنظیم کے تقریبا 3500 ارکان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد سامنے آئی۔ ان افراد میں تنظیم کے حملہ آور اور اس کے قیدی شامل ہیں۔

رواں ماہ 20 جنوری کو غویران جیل پر داعش تنظیم کا حملہ شام میں تقریبا تین برس قبل تنظیم کے ہاتھوں سے تمام زیر کنٹرول علاقے نکل جانے کے بعد اب تک کا سب سے بڑا اور شدید حملہ تھا۔ اس دوران میں کم از کم 270 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں 189 کا تعلق داعش سے اور 74 کا تعلق کرد سیکورٹی فورسز اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز سے ہے۔ مارے جانے والوں میں 7 شہری شامل ہیں۔

دریں اثنا لاشوں کی منتقلی کی کارروائی جاری ہے۔ گذشتہ روز جیل سے ایک ٹرک نکلا جس کے اندر متعدد لاشیں موجود تھیں۔ خیال ہے کہ یہ داعش کے ہلاک شدگان کی لاشیں تھیں۔ ذرائع کے مطابق ان لاشوں کو شام کے شمال مشرق میں کردوں کی خود مختار انتظامیہ کے زیر کنٹرول علاقوں میں مخصوص قبرستانوں میں منتقل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے غویران جیل میں ہونے والی جھڑپوں نے الحسکہ شہر میں تقریبا 45 ہزار افراد کو اپنے گھر چھوڑ کر فرار ہو جانے پر مجبور کر دیا۔ یہ بات اقوام متحدہ کی جانب سے بتائی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں