لبنان کے تعلقات کی بحالی کے لیےخلیجی شرائط پرجواب کا جائزہ لیاجائے گا: کویت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کویت نے اتوار کے روزکہا ہے کہ خلیجی عرب ریاستیں تعلقات کی بحالی کے حوالے سے اپنی پیش کردہ شرائط پر لبنان کے ردعمل کا جائزہ لیں گی۔عرب ممالک اور لبنان کے درمیان تعلقات ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کی بیروت اور خطے میں بڑھتی ہوئی طاقت پرمتاثر ہوئے ہیں۔

کویتی وزیرخارجہ شیخ احمد ناصرالصباح نے عرب وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد ایک نیوزکانفرنس میں لبنان کے ردعمل کی کوئی تفصیل نہیں بتائی۔البتہ اس کے مسودے میں حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے کے معاملے کو پس پشت ڈال دیا گیا تھا۔

’’ہمیں جواب موصول ہوچکا ہے‘‘۔شیخ احمد نے کہا کہ کویت اورخلیج کے متعلقہ حکام اس کا مطالعہ کریں گے تاکہ یہ تعیّن کیا جاسکے کہ لبنان کے ساتھ اگلا اقدام کیا ہونا چاہیے۔انھوں نے بیروت کا مطالبات پربات چیت کرنے پر شکریہ ادا کیا اورکہا کہ یہ ایک مثبت قدم ہے۔

22جنوری کو بیروت کو دی گئی شرائط میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پرعمل درآمد کے لیے ایک مدت کا تعیّن شامل ہے۔ان میں قرارداد1559 بھی شامل ہے۔اس کوسلامتی کونسل نے 2004 میں منظورکیا تھا۔اس میں لبنان میں غیرریاستی ملیشیاؤں کوغیرمسلح کرنے پر زوردیا گیا تھا۔

لبنانی مسودے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کا احترام کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ’’شہری امن اورقومی استحکام کو یقینی بنایاجائے گا‘‘۔نیزلبنان ’’عرب ممالک کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرنے والی سرگرمیوں کامرکز نہیں ہوگا‘‘۔

لبنانی وزیرخارجہ نے جمعہ کو کہا تھا کہ وہ کویت میں ہونے والے اجلاس میں حزب اللہ کے ہتھیار’’حوالے‘‘نہیں کریں گے اورقرارداد 1559 پرعمل درآمد میں ’’وقت لگے گا‘‘۔

حزب اللہ امریکا کی اتحادی خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ اثرورسوخ کی علاقائی جدوجہدمیں ایران کی حمایت کرتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس گروپ نے یمن میں جاری جنگ میں ایران کی اتحادی حوثی تحریک کی مدد کی ہے۔

حزب اللہ لبنانی فوج سے زیادہ طاقتورملیشیا ہے اور اس نے شام سمیت خطے میں ایران نوازاتحادیوں کی حمایت کی ہے۔ یہ گروپ اوراس کے اتحادی لبنانی ریاست کی پالیسی پر بھی غلبہ کے حامل ہیں۔

خلیجی عرب ممالک کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ نے لبنان کو درپیش مشکلات میں اضافہ کیا ہے کیونکہ وہ گذشتہ ڈیڑھ دو سال سے مالی بحران سے نبردآزما ہے۔گذشتہ سال جب سعودی عرب اور دیگرخلیجی ریاستوں نے اپنے ہاں سے لبنانی سفیروں کو بے دخل کیا اوربیروت سے اپنے سفیروں کو واپس بلالیا توان کے لبنان سے تعلقات مزید گراوٹ اور سردمہری کا شکارہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں