اسرائیلی صدرمزیدعلاقائی ممالک سے تعلقات معمول پرلانے کے معاہدے کے لیے پُرامید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی صدراسحاق ہرتصوغ نے متحدہ عرب امارات کے پہلے دورے پرسوموار کودبئی ایکسپو2020 کے عالمی میلے میں خطاب کیا ہے۔اس سے چند گھنٹے قبل ہی یمن سے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے یواے ای پرایک اور بیلسٹک میزائل داغا تھا لیکن امارات کے فضائی دفاعی نظام نے اس حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔

اسرائیلی صدر کے دورے کے موقع پر دبئی نمائش گاہ پر معمول سے زیادہ سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے۔انھوں نے اس موقع پر تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے امید اور یقین ہے،زیادہ سے زیادہ ممالک جلد ہی متحدہ عرب امارات کی پیروی کریں گے اورابراہیم معاہدے میں شامل ہوں گے‘‘۔

متحدہ عرب امارات اوراسرائیل ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے بارے میں خدشات کا اظہارکرتے رہتے ہیں اوروہ امن معاہدے کواپنی معیشتوں کوفروغ دینے کے ایک طریقے کے طور پربھی دیکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین نے 2020ء میں امریکا کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پرلانے کے معاہدوں پر دست خط کیے تھے۔انھیں ’’ابراہیم معاہدے‘‘کا نام دیا گیا تھا۔دونوں خلیجی ریاستوں اوراسرائیل خطے میں ایران اوراس کی اتحادی ملیشیاؤں کے بارے میں خدشات کا اظہارکرتے رہتے ہیں۔

اسحاق ہرتصوغ نے امارت دبئی میں چھے ماہ تک جاری رہنے والےعالمی میلے میں تقریرکرتے ہوئے کہا کہ ’’پہلے ہی ہماری دوطرفہ تجارت ایک ارب ڈالر سے تجاوزکرچکی ہے۔120 سے زیادہ دوطرفہ معاہدوں اور سمجھوتوں پر دستخط کیے گئے اور حال ہی میں 10 کروڑڈالرکا(تحقیق و ترقی) فنڈ قائم کیا گیا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ اب تک ڈھائی لاکھ اسرائیلی متحدہ عرب امارات کی سیاحت کرچکے ہیں اورامید ہے کہ کووڈ-19 کی پابندیوں میں نرمی کے بعد اماراتی شہری بھی اسرائیل کی سیاحت کو جائیں گے۔

اسحاق ہرتصوغ اتوارکے روز متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی پہنچے تھے۔انھوں نے متحدہ عرب امارات کے حقیقی رہنما اورابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید کے ساتھ سلامتی اوردوطرفہ تعلقات سے متعلق امور پرتبادلہ خیال کیا تھا۔اسرائیلی صدر نے ان سے گفتگو میں کہا ان کا ملک متحدہ عرب امارات کی سکیورٹی کی ضروریات کی حمایت کرتا ہے اور اس کے ساتھ مضبوط علاقائی تعلقات کا خواہاں ہے۔

دریں اثناء اتوار اور سوموار کی نصف شب کے بعد ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ یواے ای پر ایک بیلسٹک میزائل داغا تھا لیکن یو اے ای کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کو کسی ہدف پر گرنے سے پہلے ہی روک لیا گیا تھا۔ گذشتہ پندرھواڑے میں امریکا کے اتحادی متحدہ عرب امارات پر یمن سے اس طرح کا یہ تیسرا حملہ ہے۔تاہم اماراتی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ اس میزائل کا ہدف ابوظبی یادبئی تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں