ہمارے ہتھیار جدید جب کہ ایران کا اسلحہ دیسی ساختہ ہے: لبنان میں سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان میں سعودی عرب کے سفیر علی عواض العسیری نے اس بات کو مسترد کر دیا کہ ایران خطے کے ممالک بالخصوص خلیجی ریاستوں کے خلاف براہ راست جنگ شروع کر دے گا۔

ایک ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایران جنگ چھیڑتا ہے تو اس کی کمزور معیشت تباہ ہو جائے گی۔ انھوں نے اس بات کو بھی مسترد کیا کہ وہ ایٹمی ہتھیار استعمال کرے گا چاہے ایک ہی دن اس کے پاس کیوں نہ ہوں، کیونکہ اسے اس کے نتائج کا ادراک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان جوہری صلاحیتوں کے مالک ہیں مگر انہوں نے انہیں اپنے درمیان جنگوں میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال نہیں کیا۔

عسکری قوتوں کے توازن کے بارے میں العسیری نے کہا کہ ایران کے ہتھیار مقامی طور پر بنائے جاتے ہیں جب کہ خلیجی ریاستوں کے ہتھیار مغربی، جدید اور جدید ہیں۔

سعودی سفیر نے لبنان، شام اور یمن جیسے متعدد ممالک میں ایران کی منفی پالیسی کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے حکمت عملی بدل لی ہے لیکن اس کی تزویراتی پالیسی وہی ہے اور وہ عرب ممالک میں شیعہ اقلیتوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔

ایرانی حکومت کے اندر بحران کے بارے میں سفیر العسیری نے کہا کہ ایران میں اگلا تنازع پاسداران انقلاب اور خامنہ ای کے گروپ کے درمیان ہو سکتا ہے۔

پراکسی جنگیں

الاہرام سینٹر فار پولیٹیکل اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز کے محقق ڈاکٹر احمد علیبہ نے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران برسوں سے خطے میں پراکسی جنگیں چلا رہا ہے جو کہ غیر معمولی جنگیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے فوجی ڈھانچے میں کئی کم زوریاں ہیں اور فضائیہ خاص طورپر کم زور ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر تہران نے خطے کے ممالک کے خلاف اعلان جنگ کیا تو وہ شکست اس کا مقدر ہوگی۔ انہوں نے کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عرب افواج کی تشکیل پر زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں