مصری خاتون محقق کو پس مرگ امتیازی نمبروں سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصرمیں ایک خاتون محقق کی وفات کے چند ماہ بعد یونیورسٹی کی طرف سے انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری جاری کی گئی ہے۔

مصری محققہ شیما السید کو قاہرہ یونیورسٹی کے فیکلٹی آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس کالج کی طرف سے بہترین نمبروں کے ساتھ ڈاکٹریٹ کی ڈگری جاری کی ہے۔

مرحومہ ڈاکٹر شیما نے ڈاکٹرعادلہ رجب کی نگرانی میں مکمل کیا تھا۔ڈاکٹر عادلہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ شیما السید نے کس طرح اپنی موت کے تین ماہ بعد ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

کار حادثہ

ڈاکٹر عادلہ نےبتایا کہ شیما السید ایک کار حادثے میں زخمی ہوگئی تھیں۔ اس حادثے میں ان کا بیٹا چل بسا تھا جب کہ وہ خود آٹھ ماہ تک کومے میں رہیں۔

ڈاکٹر عادلہ کا کہنا تھا کہ یہ حادثہ گزشتہ اپریل میں پیش آیا تھا۔ اس وقت اس نے مقالہ لکھنا مکمل کر لیا تھا اور صرف تحقیق کے نتائج باقی رہ گئے تھے۔ اس لیے محقق کے شعبہ کے ساتھیوں اور اس کے پروفیسرز نے باقی مقالہ کو مکمل کرنے پر کام کرنے کی کوشش کی۔

محققہ کے ساتھیوں نے اپنی کلاس فیلو کے مقالے کے بقیہ حصے کو مکمل کرنے کے لیے ضروری قانونی طریقہ کار پر عمل کیا جو قاہرہ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس میں اسسٹنٹ ٹیچر کے طور پر کام کرہ تھیں۔

ڈاکٹرعادلہ نے وضاحت کی کہ الباحہ شیما گذشتہ دسمبرمیں انتقال ہو گیا تھا، اور کالج کے ڈین نے انہیں ان کی وفات کے بعد باعزت طریقے سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینے کا فیصلہ کیا۔

شیما کی وفات کے بعد یونیورسٹی کی جانب سے اس کے مقالے پر بحث کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی۔ اس نے "سبز ترقی کی پالیسیاں اور توانائی کے شعبے پر ان کے اثرات" کے عنوان سے مقالہ لکھا۔

محققہ کی جانب سے مقالہ پیش کیا گیا۔ مقالہ پربحث کرنے والی کمیٹی نے کے ارکان ریمارکس دیتے ہوئے مقالے میں کی جانے والی تحقیق کو سراہا اور مرحومہ کو پس مرگ بہترین گریڈ کے ساتھ ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینے کا فیصلہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں