ایران کا مدار میں سیٹلائٹ بھیجنے کا ایک اور تجربہ ناکامی سے دوچار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران کی جانب سے مدار میں مصنوعی سیارے بھیجنے کا ایک اور راکٹ تجربہ ناکام ہو گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی AP کے مطابق"Maxar Technologies" کمپنی کی جانب سے جاری سیٹلائٹ تصاویر میں اتوار کے روز ایران کے دیہی علاقے سمان میں واقع امام خمینی خلائی بندرگاہ کے نزدیک راکٹ لانچنگ پیڈ پر آگ کے شعلوں کی علامات سامنے آئیں۔ علاوہ ازیں راکٹ کے تباہ شدہ پل بھی واضح ہو رہے ہیں۔ عام طور پر کامیاب تجربات کے نتیجے میں راکٹوں کے پل تباہ نہیں ہوتے۔ اس لیے کہ پلوں کو راکٹ کی روانگی سے قبل اتار لیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ ایران کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ کامیاب تجربات کا تو سرکاری ٹی وی پر پرچار کرتا ہے مگر ناکام کوششوں کا اعتراف نہیں کرتا۔

واضح رہے کہ "Planet Labs PBC" سے علاحدہ کی گئی تصاویر سے غالب گمان ہوتا ہے کہ راکٹ بھیجنے کی ناکام کوشش جمعے کے روز کے بعد کسی وقت کی گئی۔

گذشتہ دہائی کے دوران میں ایران کے خلائی پروگرام کے سلسلے میں راکٹ بھیجنے کی مسلسل پانچ ناکام کوششیں واقع ہوئیں۔ فروری 2019ء میں اسی نوعیت کی ایک ناکام کوشش میں تین محققین ہلاک ہو گئے تھے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے اپریل 2020ء میں مدار میں سیٹلائٹ بھیجنے کا کامیاب تجربہ کر کے اپنے خفیہ خلائی پروگرام کا انکشاف کیا تھا۔ امریکا کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے سیٹلائٹ بھیجنا اقوام متحدہ کے زیر انتظام سلامتی کونسل کی قرار داد کو کھلا چیلنج ہے۔

سابق صدر حسن روحانی نے مذاکرات کے دوران میں مغرب کے متنفر ہونے کے اندیشے کے سبب ملک میں خلائی پروگرام کی پیش رفت روک دی تھی۔ تاہم موجود سخت گیر صدر ابراہیم رئیسی نے اپنی توجہ اس پروگرام کو سرگرم کرنے پر مرکوز ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں