ستر سال سے ٹوپیاں بنانے والی سعودی خاتون سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی ایک بزرگ خاتون ستر سال سے اپنی انگلیوں سے مختلف اشکال اور سائزکی "ٹوپیاں" بُن رہی ہے۔ وہ اپنے گاہکوں کی ڈیمانڈ اور خواہش کے مطابق دھاگوں اور سجاوٹ کے معیار کو یکجا کر کرکے ٹوپیاں بناتی اور انہیں فروخت کرتی ہے۔ جیزان شہر سے تعلق رکھنے والی مریم فرسانی’ٹوپیاں بنانے والی آنٹی‘ کے نام سےمشہور ہیں۔

مریم فرسانی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئےٹوپیوں کی بُنائی کے بارے میں بتایا کہ میں نے ہول سیل مارکیٹ کے لیے فرش پر بچھائی جانے والی چٹائیوں پرکام شروع کیا۔ جہاں ستر سال سے لڑکیاں بیٹھ کر کام کر رہی ہیں۔ جو لڑکی بُنائی میں اچھی نہیں ہےاسے سکھایا جاتا ہے۔ جس لڑکی کی تربیت نہیں ہوتی اسے کسی تربیت یافتہ کے پاس بٹھا دیا جاتا ہے اور بنائی کے اوزار اس کے ہاتھ میں تھما دیے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ یہ کام سیکھ لیتی ہے۔

یہ وہ کام ہے جو اس وقت لڑکیاں نہیں کر پاتی تھیں۔یہ ایک دشوار کام تھا اور بعض اوقات ایک ٹوپی بنانے مین کئی دن لگ جاتے۔

مریم نے عندیہ دیا کہ وہ لڑکیوں کو یہ پیشہ سکھانا چاہتی ہیں لیکن وہ ایسا نہ کرسکیں اور ٹوپی بنانے کا کام مکمل کرنے کی ہمت نہیں رکھتی تھیں اور صبر نہیں کرسکتی تھیں۔ اس زمانے کے برعکس جب وہ تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ ماں اپنی بیٹی کو اپنے پاس لاتی تھی۔ سکھاتی، یہاں تک کہ اگراسے بُنائی کے گرم اوزاروں سے مارا پیٹا گیا یا جلایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے یہ کام اس کے شوہر کے گھر والوں سےسیکھا۔انہوں نے اسے سکھایا تھا۔ مقامی لہجےمیں اس پیشے کو کو "حواکہ" کہا جاتا ہے جو دھاگوں سے بُننے کا کام ہے۔

مریم فرسانی نے بتایا کہ اب وہ بوڑھی ہوگئی ہیں اور جسم ناتوانی کا شکار ہے۔ اس لیے اب وہ ایک ٹوپ پندرہ دن میں مکمل کرپاتی ہیں جب کہ جوانی کے دنوں میں وہ 8 دن میں ایک ٹوپی مکمل کرلیتی تھیں اور اگر زیادہ محنت کرتیں تو تین چار دن میں بھی ٹوپی بن جاتی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں مریم فرسانی نے کہا کہ میرے آس پاس کی تمام لڑکیوں نے ٹوپی بنانے کی مشق کرنے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ میری بیٹیوں نے بھی اس کام کو ہاتھ نہیں لگایا۔ اس کی وجہ اس کی دشواری ہے کیونکہ اس میں کئی کئی دن لگ جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں