روس اور یوکرین

روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہیں: محمد بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین میں روسی فوجی آپریشن اپنے نویں دن میں داخل ہو رہا ہے۔ دوسری طرف عالمی سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان مزید جنگ روکنے کے لیے ثالثی کی کوششیں بھی تیز ہوگئی ہیں۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن عبدالعزیز جو مملکت کے نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع بھی نے کل جمعرات کو روسی صدر ولادی میر پوتین سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔

سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے" کے مطابق کال کے دوران انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

پرامن حل اور ثالثی پر آمادگی

فون پر بات کرتے ہوئے سعودی ولی عہد نے بین الاقوامی بحرانوں پر بھی بات کی۔ یوکرین میں جاری لڑائی کے حوالے سے ولی عہد نے دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کی کوششوں کی پیش کش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب تنازع کے حل کے لیے بات چیت اور مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی سلامتی اور خود مختاری کا احترام کریں اور جنگ روک کر تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔

عالمی منڈی اور تیل کی قیمتوں کے حوالے سےشہزادہ محمد بن سلمان نے تیل کی منڈی کے توازن اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے مملکت کی خواہش کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اوپیک پلس معاہدے کے کردار اور اسے برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

دریں اثنا یوکرین کے ایک سینیر اہلکار نے اعلان کیا ہے کہ کیف اور ماسکو نے جمعرات کو روسی فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے بات چیت کے دوسرے دور میں شہریوں کو نکالنے کے لیے انسانی بنیادوں پر راہداری قائم کرنے پر اتفاق کیا۔

دونوں وفود کے درمیان بات چیت جو پولینڈ کے قریب بیلاروسی سرحد پر بریسٹ کے پولیوسکایا پوچا علاقے میں ہو رہی ہےگذشتہ پیر کو شروع ہونے کے بعد جاری ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان پہلی ملاقات 28 فروری کو ہوئی تھی اور کوئی ٹھوس پیش رفت حاصل کیے بغیر ختم ہو گئی۔ یہاں تک کہ وہ دوسری ملاقات کرنے پر راضی ہو گئے جو جمعرات کو ختم ہوئی۔ دونوں فریق مذاکرات کا تیسرا دور اگلے ہفتے کے آغاز سے کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں