"شماغ" صحیح طریقے سے کیسے پہنا جائے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے ملبوسات کے ماہر عبداللہ بن روکان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ بچپن میں اس کا اپنے والد کے ساتھ وسطی ریاض کے مشہور بازاروں الزول مارکیٹ اور الثمیری اسٹریٹ جانا اسے مردانہ لباس اور لوازمات کا دلدادہ بنا دے گا۔یہاں تک کہ وہ سوشل میڈیا پر مناسب لباس کا انتخاب کرنے کے طریقے بتائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے اپنے انٹرویو میں انہوں نے وضاحت کی کہ انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنا ایک بنیادی ڈھانچہ تھا جس سے ثقافتی ورثے اور تہذیب سے مالا مال قومی شناخت کو برآمد کرنے اور پھیلانے کے اپنے خواب کو پورا کرنا جاری رکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی لباس ان لوگوں کی جذباتی تاریخی اقدارکی جڑوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہمیں لباس اپنے اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ ہمارے لوک ملبوسات کا سلسلہ اس دور سے جا ملتا ہے جب پہلی سعودی ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔

سعودی ملبوسات کے اجزاء

اپنے شوق اوراپنی تعلیمی مہارت کے درمیان تعلق کے بارے میں عبداللہ بن روکان نے کہا کہ یہ عمل درآمد کی درستگی، تفصیلات کا مطالعہ اور حتمی نتیجہ کا معیار ہے۔ یہ سعودی لباس کے اجزاء میں واضح ہے۔ مثال کے طور پر بشت اور اس کے دلکش سنہری دھاگوں کو ایک وسیع ہندسی زیور کے ساتھ بُننے کا طریقہ سرکاری مجالس میں حاضری کے وقار کو ظاہر کرتا ہے اور میں ہنرمند ہاتھوں کی اس محنت کی درستگی پر حیران ہوں۔

بن روکان نے انکشاف کیا کہ مردانہ لباس میں ہر موسم میں کچھ آداب ہوتے ہیں۔ گرمیوں میں ہلکے مواد جو کھلے چھیدوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ سفید اور کریم کے رنگوں کے ساتھ غتر کے ساتھ کیا جاتا ہے جب کہ سردیوں کے موسم میں سرخ سوتی کپڑے پہنے جاتے ہیں۔ سرد دھاروں کے خلاف مزاحمت کرنے کے لیے اون کے زیادہ بھاری اونی کپڑے تیار کیے جاتے ہیں۔ جب کہ موسم بہار میں ہم ربیع کے ملبوسات البشوت جیسے "مرینہ"، "الونیشن" اور "مشروک" پہنے جاتے ہیں۔

ہزاروں ریال

بشت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بشت میں استعمال ہونے والا اون کا دھاگہ خاص طور پر القصب کے علاقے (الزری) میں سونے کے مہنگے جرمن ساخت کے ہیں۔اس سنہری دھاگے کی ریل سونے کے پانی سے لپٹی ہوتی ہے۔ اس کی قیمت ہزاروں ریال تک پہنچ سکتی ہے۔

بن روکان کو 4 سال تک لباس کے انتخاب کے ذریعے دولہا کو تیار کرنے اوراسے بشت پہننے اور عقال اور شماغ کی تیاری کرنے کی تربیت دینے میں ایک ماہر سمجھا جاتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی کوششیں وزارت ثقافت کے کوششوں کے موافق ہیں جن کا مقصد مقامی اور بین الاقوامی سطح پر سعودی ثقافت کو فروغ دینا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں