اسکولوں کا نصاب مالی بحران کا سبب، فلسطینی اتھارٹی مشکل میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مغربی کنارے کے شہر جنین میں "بيت قاد گرلز اسکول" کی پانچویں جماعت کی طالبات ان دنوں "کمال عدوان" آپریشن کے بارے میں معلومات اور تصاویر اکٹھا کرنے کے مقابلے میں مصروف ہیں۔ یہ کارروائی فلسطینیوں نے 1978ء میں حیفا شہر کے نزدیک کی تھی۔

طالبات سے اس سرگرمی کا مطالبہ عربی زبان کی استانی نے کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں تعلیمی سرٹفکیٹ میں اضافی نمبر حاصل ہوں گے۔

عربی زبان کی کتاب میں ایک سبق دلال المغربی (کمال عدوان آپریشن انجام دینے والی خاتون) کے بارے میں ہے۔ سبق میں درجنوں اسرائیلیوں کی جان لینے والی اس کارروائی کو دلیری کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ یہ اُن درجنوں اسباق میں سے ایک ہے جن کا پتہ اسکول کی تعلیم میں امن اور ثقافتی رواداری کا جائزہ لینے والے انسٹی ٹیوٹ (IMPACT-SE) نے لگایا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ اسباق نفرت ، تشدد اور یہود دشمنی پر اکساتے ہیں۔

مذکورہ ادارے "امپیکٹ" نے گذشتہ تین برسوں کے دوران میں اپنی رپورٹوں میں یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی شہری خدمت کے اُن ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی روک دیں جو تعلیمی نصاب ترتیب دیتے ہیں اور ان کی تدریس انجام دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ یورپی یونین فلسطینی اتھارٹی کو سب سے زیادہ عطیات دینے والا انفرادی فریق ہے۔

یورپی یونین کے ایک سینئر عہدے دار اولیور ویریلی نے مطالقبہ کیا ہے کہ اس بات کی تحقیق کی جائے کہ آیا فلسطینی تعلیمی نصاب کی کتب بین الاقوامی معیارات کی پابندی کرتی ہیں یا نہیں۔ اولیور نے مطالبہ کیا کہ جب تک فلسطینی اتھارٹی کی اسکول کی کتب بین الاقوامی معیارات کو پورا نہیں کرتی ہیں اس وقت تک تقریبا ایک کروڑ ڈالر کی مالی رقوم کو روک دیا جائے۔ انہوں نے علانیہ طور اس خواہش کا اظہار کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام تعلیمی سیکٹر کے لیے یورپی یونین کی مالی امداد پر زیادہ کڑی شرائط عائد کی جائیں۔

دوسری جانب مذکورہ ادارے (IMPACT – SE) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ماركوس شيف جو فلسطینی تعلیمی نصابوں کی نگرانی اور تجزیہ کرتے ہیں ،،، انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ یورپی قانون ساز کا مطالبہ ہے کہ فلسطینی بچوں کو رواداری ، باہمی بقا اور احترام کی تعلیم دی جائے۔ وہ فلسطینی اسکولوں میں نفرت کی تعلیم کے لیے مالی رقوم فراہم کرنے پر تیار نہیں۔

امپیکٹ کی جانب سے جاری حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی یورپی یونین سے وعدوں کے باوجود اپنا تعلیمی مواد تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

دوسری جانب امپیکٹ کے ناقدین نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ ادارہ اسرائیل کے لیے جانب داری اور فلسطینیوں کے لیے عداوت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ مملکت متحدہ کی جانب سے 2018ء میں ایک جائزے میں بتایا گیا کہ "فلسطینی اسکولوں کی کتب کے حوالے سے امپیکٹ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ اپنے نتائج کے لحاظ سے با مقصد نہیں اور اس میں طریقہ کار کی درستی کا فقدان ہے"۔

عالمی بینک نے پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی امدادی ایجنسی "اونروا" کے اسکولوں میں پڑھائے جانے والے فلسطینی نصاب کو ایک فعّال تعلیمی نظام شمار کیا ہے۔ مزید یہ کہ بعض رپورٹوں سے ثابت ہوا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام کے نصابوں میں تشدد ، نفرت اور نسل پرستی پر اکسایا گیا ہے۔

فلسطینی وزارت تعلیم و تربیت میں نصاب کے ڈائریکٹر جنرل ثروت زید نے انڈیپنڈینٹ (عربیہ) سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "اسرائیل میں غیر سرکاری فریقوں کی جانب سے جاری رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی نصابوں میں اشتعال انگیزی ، تشدد اور دہشت گردی پر مبنی عبارتیں شامل ہیں ،،، یہ دعوی حقیقت سے بہت دور ہے۔ ہم اقوام متحدہ کی یونیسکو تنظیم کی جانب سے بیان کردہ عالمی معیارات کے ضمن میں رواداری اور امن کی اقدار پر کاربند ہیں۔ بحیثیت فلسطینی ہمارا یہ حق ہے کہ اس نصاب کو اختیار کریں جو بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت بتائے۔ ہم کسی بھی صورت فلسطینی شہداء کے تذکرے سے منہ نہیں موڑ سکتے جنہوں نے دلال المغربی کی طرح اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت کی۔ اسرائیل لابنگ کے ذریعے یورپی یونین پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ فلسطین کی قومی بیداری اور شعور کو مسخ کر دے ، ایسا ہر گز نہیں ہو گا"۔

جرمنی کے "جارج ایکرٹ" سینٹر فار ریسرچ کی رپورٹ اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ فلسطینی نصابوں میں اسرائیل کے خلاف اشتعال انگیزی کا مواد نہیں ہے۔ یورپی یونین نے 2020ء میں اس ادارے کو فلسطینی نصابوں کے جائزے کی ذمے داری سونپی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں