اسرائیل کا ہمسایہ ممالک میں ایران کے دوڈرونز مارگرانے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے پہلی مرتبہ انکشاف کیا ہے کہ اس نے ایک سال قبل دوسرے ممالک میں ایران کے دو ڈرون مار گرائے تھے اور انھیں نشانہ بنانے کے لیے جدید ترین ایف 35 اسٹیلتھ لڑاکا جیٹ کا استعمال کیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے ایرانی ڈرونز کو گرانے سےمتعلق واقعات کی پہلی مرتبہ تفصیل فراہم کی ہے۔پہلے فوجی سنسر شپ کے تحت ان معلومات کا افشا نہیں کیا گیا تھا۔

ان ایرانی ڈرونز کومارچ 2021 میں ہمسایہ ممالک میں مارگرایا گیا تھا لیکن صحافیوں کو آگاہ کرنے والے اسرائیلی فوج کے عہدہ دار نے یہ بتانے سےانکارکیا ہے کہ ان ڈرونز کوکہاں روکا گیا تھا اورکیا ان ممالک نے اسرائیلی فوج کو اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دی تھی۔

قواعد وضوابط کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے عہدہ دار نے بتایا کہ ڈرون ایران سے چھوڑے گئے تھے اور یہ اسرائیل کی طرف آرہے تھے۔

فوج نے ایک بیان میں بغیرآدمی فضائی گاڑیوں کا مخفف استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ’’یو اے وی کو اسرائیل کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ہم آہنگی سے علاقائی فضائی حدود ہی میں روک لیا گیا تھا‘‘۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران اورخطے میں اس کے اتحادی طویل فاصلے تک مارکرنے والے ڈرونز تیارکررہے ہیں اوران کی جانچ کررہے ہیں۔ یہ گولہ بارود ہدف تک لے جا سکتے ہیں،انٹیلی جنس اکٹھا کرسکتے ہیں اورحملے کر سکتے ہیں۔ اس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ سال مارچ میں مار گرائے گئے ڈرون مغربی کنارے اور غزہ میں ہینڈ گن اور دھماکاخیزمواد لے کر جارہے تھے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے مئی 2021 کی غزہ جنگ کے دوران میں عراق سے داغا گیا ایک اورایرانی ڈرون مار گرایا تھا۔اس ڈرون کواسرائیل کی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد مارگرایا گیا تھا۔واضح رہے کہ ایران عراق میں متعدد طاقتورشیعہ ملیشیاؤں کی حمایت کرتا ہے۔

اسرائیل ایران کواپنا لیے سب سے بڑا خطرہ اور بڑا دشمن قراردیتا ہے۔وہ ہمسایہ ملک شام میں ایران کے مشتبہ فوجی اہداف پر باقاعدگی سےحملے کرتا رہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں